چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 422 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 422

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۲۲ چشمه معرفت چیز سے پر ہیز کرتا ہے بلکہ اگر اس کو وہ چیز مفت بھی دی جائے تب بھی اس کو دُور پھینک دیتا ہے۔ اب جب کہ انسانی فطرت میں یہ خاصیت ہر جگہ اور ہر موقع پر پائی جاتی ہے تو طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان خدا کے گناہ سے کیوں پر ہیز نہیں کرتا اور کیوں اس موزی چیز سے دُور نہیں بھاگتا جیسا کہ دوسری موذی چیزوں سے بھاگتا ہے؟ اس سوال کا صاف جواب یہ ہے کہ انسان گناہ کے ضرر پر ایسا یقین نہیں رکھتا (۵۴) جیسا کہ سانپ وغیرہ کے ضرر پر اُس کو یقین ہے۔ اب جب یہ امر تشخیص ہو چکا تو صاف طور پر معلوم ہو گیا کہ انسان کو گناہ سے بچنے کے لئے کسی کفارہ وغیرہ کی ضرورت نہیں بلکہ یہ ضرورت ہے کہ اُس کو خدا کی ہستی پر کامل یقین پیدا ہو جائے اور اس بات کا یقین ہو جائے کہ خدا کا گناہ زہر قاتل ہے تب وہ خود بخود گناہ سے ایسا ہی پر ہیز کرے گا جیسا کہ وہ سانپ وغیرہ سے پر ہیز کرتا ہے۔ اے دوستو ! گناہ سے بے خوف ہونے کی یہی وجہ ہے کہ غافل انسان کو نہ خدا پر یقینی ایمان ہے نہ اُس کی سزا پر۔ ورنہ انسان اپنی ذات میں بزدل ہے۔ اگر ایک گھر میں کسی چھت کے نیچے چند آدمی بیٹھے ہوں اور یکدفعہ سخت زلزلہ آوے تو وہ سب کے سب باہر کی طرف دوڑتے ہیں۔ اس کا یہی سبب ہوتا ہے کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر چند منٹ اور چھت کے نیچے بیٹھے رہے تو موت کا شکار ہو جائیں گے مگر چونکہ گناہ کرنے والوں کو خدا پر یقین نہیں نہ اس کی سزا پر یقین ہے اس لئے وہ لوگ دلیری سے گناہ کرتے ہیں۔ جولوگ جھوٹے اور بناوٹی ذریعے نجات کے لئے ڈھونڈھتے ہیں وہ اور بھی گناہ پر دلیر ہو جاتے ہیں کیونکہ جھوٹا ذریعہ کوئی یقین نہیں بخشتا مگر جس شخص کو یہ علم یقینی حاصل ہو جاتا ہے که در حقیقت خدا ہے اور درحقیقت گناہ گار بے سزا نہیں رہے گا بشر طیکہ یقینی علم ہو نہ محض رسمی ۔ وہ بلا شبہ اپنے تئیں گناہ کی راہوں سے بچائے گا۔ کچی فلاسفی نجات کی یہی ہے