چشمہٴ معرفت — Page 22
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۲ چشمه معرفت (۱۳) اور کیونکر عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ ہر ایک حیوان کی تناسخی صورت ہمیشہ دنیا میں رہے گی ۔ اگر کہو کہ ان تمام حیوانات کا مجموعہ ابتدا سے چلا آتا ہے اور یہی دلیل ان کی آئندہ کے بقاء پر ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ یہ دلیل تو ہمارے لئے ہے نہ تمہارے لئے کیونکہ جب کہ بقول تمہارے کروڑ ہا برسوں بلکہ کروڑہا اربوں سے گائیاں زمین پر چلی آتی ہیں اور ایسا ہی گھوڑے اور ایسا ہی مرد اور عورتیں بھی پس اگر محض تناسخ کے اتفاقی اسباب سے ان چیزوں کا وجود ہوتا تو کبھی نہ کبھی بہت سی چیزیں ان میں سے مفقود بھی ہو جاتیں اور کبھی ایسا بھی اتفاق ہوتا کہ مرد ہی پیدا ہوتے یا محض عورتیں ہی پیدا ہوتیں ۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ آریوں کے عقیدۂ تناسخ کے رو سے اُن کا پر میشر اس دنیا کا مالک نہیں ٹھیر سکتا۔ یادر ہے کہ کوئی آریہ اپنی وید کی تعلیم کے رو سے نہیں کہہ سکتا کہ ارواح اور ذرات پر میشر کی ملکیت ہیں اور وہ اُن کا مالک ہے بلکہ آریوں کا اقرار ہے کہ پر میشر روحوں کی طاقتوں اور قوتوں اور خواص میں دخل دینے سے بکلی قاصر اور عاجز ہے کیونکہ پر میشر اُن کا خالق نہیں اور روحوں کی تمام طاقتیں اور قوتیں قدیم سے خود بخود ہیں اور ہر ایک روح اپنے وجود کا آپ ہی پر میشر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ روحیں پر میشر کے لئے ایک پیدا کردہ ملکیت کی طرح ہیں اور نہ پر میشر کا اُن پر مالکا نہ اختیار نافذ ہے۔ ہاں حاکمانہ اختیار ہے یعنی حکام کی طرح اُن کو اعمال کی جزا سزا دیتا رہتا ہے۔ پس اگر پر میشر کو روحوں اور ذرات کی طرف کچھ نسبت ہے تو وہ صرف اس طور کی نسبت ہے جو ایک بادشاہ کو اپنی رعیت کی طرف ہوتی ہے لیکن مالکانہ رنگ میں پر میشر کو روحوں اور ذرات سے کچھ بھی نسبت اور تعلق اور واسطہ نہیں ہے کیونکہ ہر ایک انسان سمجھ سکتا ہے کہ پورے طور پر مالک وہ ہوتا ہے جو اپنی ملکیت پر پورا پورا اختیار رکھتا ہو مثلاً کسی کے پاس کسی قدر اپنی ملکیت کی زمین ہے تو وہ اختیار رکھتا ہے کہ چاہے تو اُس زمین پر پایخانہ بناوے یا روٹی پکانے کی جگہ بناوے۔ پس مالک کے مقابل پر وہ جو اُس کا مملوک ہے