چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 415

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۱۵ چشمه معرفت جو لوگ ہیں ضرور اُن کے دل میں یہ خیال آئے گا کہ جبکہ پر میشر کسی اپنے قصور وار کے گناہ نہیں بخشتا تو ہم کیوں کر وہ کام کر سکتے ہیں جو پر میٹر کے اخلاق کے برخلاف ہے اور اگر رعایا ایسے راجوں اور بادشاہوں کے ماتحت ہو جو پر میشر کی طرح اپنے قصور واروں کی نسبت معافی کا نام نہیں لیتے تو اس بد قسمت رعیت کا کیا حال ہوگا اور پھر تناسخ ثابت کہاں ہے جس طرح ہم کسی شخص کی جان نکلتی دیکھتے ہیں کب ہمارے مشاہدہ میں یہ بات آتی ہے کہ وہی جان دوبارہ کسی اور جسم میں پڑ گئی ہے اور اس طرح پر یہ سزا بھی بیکا ر ہے (۴۶) کیونکہ اگر دوبارہ آنے والی روح اس بات سے متنبہ نہیں اور اُس کو علم نہیں دیا گیا کہ وہ فلاں گناہ کی پاداش میں کسی نا کارہ جون میں ڈالی گئی تو پھر وہ کیوں کر اس گناہ سے دستکش رہے گی۔ یادر ہے کہ انسان کی فطرت میں اور بہت سی خوبیوں کے ساتھ یہ عیب بھی ہے کہ اس سے بوجہ اپنی کمزوری کے گناہ اور قصور صادر ہو جاتا ہے اور وہ قادر مطلق جس نے انسانی فطرت کو بنایا ہے اُس نے اس غرض سے گناہ کا مادہ اس میں نہیں رکھا کہ تا ہمیشہ کے عذاب میں اُس کو ڈال دے بلکہ اس لئے رکھا ہے کہ جو گناہ بخشنے کا خلق اُس میں موجود ہے اُس کے ظاہر کرنے کے لئے ایک موقع نکالا جائے ۔ گناہ بے شک ایک زہر ہے مگر تو بہ اور استغفار کی آگ اُس کو تریاق بنا دیتی ہے۔ پس یہی گناہ تو بہ اور پشیمانی کے بعد ترقیات کا موجب ہو جاتا ہے اور اس جڑھ کو انسان کے اندر سے کھو دیتا ہے کہ وہ کچھ چیز ہے اور معجب اور تکبر اور خود نمائی کی عادتوں کا استیصال کرتا ہے۔ اے دوستو ! یاد رکھو!! کہ صرف اپنے اعمال سے کوئی نجات نہیں پا سکتا محض فضل سے نجات ملتی ہے اور وہ خدا جس پر ہم ایمان لاتے ہیں وہ نہایت رحیم و کریم خدا ہے۔ وہ قادر مطلق اور سرب شکتی مان ہے جس میں کسی طرح کی کمزوری اور نقص نہیں ۔ وہ مبدء ہے تمام ظہورات کا اور سرچشمہ ہے تمام فیضوں کا اور خالق ہے تمام مخلوقات کا اور مالک ہے تمام جو دو فضل کا اور جامع ہے تمام اخلاق حمیدہ اور اوصاف کاملہ کا اور منبع ہے تمام