چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 21

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۱ چشمه معرفت لیکن اگر یہ تمام چیزیں جن سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے یا جن پر بقائے نسل موقوف ہے محض اتفاقی (۱۳) طور پر تناسخ کے ذریعہ سے پیدا ہوگئی ہیں تو پھر یہ چیز میں خدا کے وجود پر ہرگز دلالت نہیں کریں گی کیونکہ وہ تناسخ کی مختلف ہواؤں سے اختلاف پذیر ہو کر ایک نظام کے شیرازہ میں منضبط نہیں رہیں گی اور اس صورت میں انسانی آرام اور آسائش کے لئے ان چیزوں پر بھروسہ کرنا نہایت خطرناک ہوگا۔ مثلاً اگر یہ بات سچ ہے کہ نوع انسان میں سے جو بعض مرد ہیں اور بعض عورت ی اختلاف اواگون یعنی تناسخ کی شامت سے ہے تو اس صورت میں امان اُٹھ جاتا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ بعض زمانوں میں انسانوں کے ایسے اعمال واقع ہوں کہ کوئی روح اعمال کی رو سے مرد بننے کے لائق ہی نہ ہو یا کوئی روح عورت بننے کے لائق نہ ہو۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ بعض ضروری چیزیں کہ جو انسان کی خوراک یا آرام اور آسائش کے لئے ضروری ہیں جیسے گائے بیل گھوڑے وغیرہ وہ باعث نہ ہونے اعمال تناسخ کے زمین پر سے مفقود ہو جائیں یعنی نوع انسان سے ایسے اعمال ہی ظہور میں نہ آئیں جن کی وجہ سے اُن کو گائے یا بیل یا گھوڑا بننا پڑے۔ پس ظاہر ہے کہ اگر یہ تمام چیزیں جو انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں اُن کا وجود محض اتفاقی ہوتا تو یہ سلسلہ کبھی نہ کبھی ٹوٹ جاتا اور نہ اس سلسلہ کو خدا کے وجود پر کوئی دلالت رہتی ۔ اس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ آریوں کے اصول کی رو سے خدا تعالیٰ اُن تمام مختلف اشکال کے حیوانات کا حقیقی مالک نہیں ہے اور نہ اس کے اپنے ارادہ اور خواہش سے یہ مختلف اشکال کے حیوان زمین پر پیدا ہو گئے ہیں اور نہ اس کی مصلحت اور حکمت کی رو سے ان کا وجود زمین پر ضروری ہے بلکہ اُن تمام حیوانات کا زمین پر ہونا یا نہ ہونا صرف اُن اعمال پر موقوف ہے جو تناسخ کے چکر میں ڈالتے ہیں اور جب کہ ان چیزوں میں سے کسی چیز کو اپنی ذات میں دوام نہیں ہو سکتا بلکہ ہر ایک حیوان کا وجود وابستہ تناسخ ہے تو اس صورت میں ایسی چیزوں کو جو محض تناسخ کی وجہ سے ظہور پذیر ہیں کیونکر خدا تعالیٰ کے وجود پر دلالت ہوسکتی ہے