چشمہٴ معرفت — Page 402
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۰۲ چشمه معرفت کیونکر ہوسکتا ہے کہ خدا کا قول انسان کے قول سے برابر ہو اور کوئی الہی طاقت اُس میں موجود نہ ہو۔ اب اے صاحبو! میں یہ بیان کرتا ہوں کہ وہ امتیازی نشان کہ جو الہامی کتاب کی شناخت کے لئے عقل سلیم نے قرار دیا ہے وہ صرف خدا تعالیٰ کی مقدس کتاب قرآن شریف میں پایا جاتا ہے اور اس زمانہ میں وہ تمام خوبیاں جو خدا کی کتاب میں امتیازی نشان کے طور پر ہونی چاہئیں دوسری کتابوں میں قطعاً مفقود ہیں ممکن ہے کہ اُن میں وہ خوبیاں پہلے زمانہ میں ہوں گی مگر اب نہیں ہیں اور گو ہم ایک دلیل سے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں اُن کو الہامی کتابیں سمجھتے ہیں مگر وہ گو الہامی ہوں لیکن اپنی موجودہ حالت کے لحاظ سے بالکل بے سود ہیں اور اُس شاہی قلعہ کی طرح ہیں جو خالی اور ویران پڑا ہے اور دولت اور فوجی طاقت سب اس میں سے کوچ کرگئی ہے۔ اب میں قرآن شریف کی امتیازی خوبیاں جو انسانوں کی طاقت سے برتر ہیں ذیل میں بیان کرتا ہوں۔ اول یہ کہ اس میں ایک زبر دست طاقت ہے جو اپنے پیروی کرنے والوں کوظنی معرفت سے یقینی معرفت تک پہنچا دیتی ہے اور وہ یہ کہ جب ایک انسان کامل طور پر اُس کی پیروی کرتا ہے تو خدائی طاقت کے نمونے معجزہ کے رنگ میں اُس کو دکھائے جاتے ہیں اور خدا اُس سے