چشمہٴ معرفت — Page 20
روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت (۱۳) والی کا پتہ لگ جائے یہ کیا حماقت ہے کہ ان حد بندیوں کی دلیل بیان کرنے کے وقت ایک جگہ کچھ بیان ہے اور دوسری جگہ اس کے مخالف بیان ہے اس قسم کا تناقض خدا کے کلام میں نہیں ہوسکتا اور جو کلام اس تناقض کو پیش کرے اُس کی رد اور کھنڈن کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ خدائے تعالیٰ کی وحدت نظامی کے برخلاف ہے۔ بھلا ہمیں بتاؤ کہ کیا وید میں یہ وحدت نظامی کی تعلیم پائی جاتی ہے یعنی یہ کہ وہ تمام تفاوت قوتوں اور طاقتوں اور خاصیتوں کا جو ستاروں اور دوسری نباتات اور روحوں کی قوتوں میں پایا جاتا ہے از روئے تعلیم دید وہ محض اس لئے ہے کہ تا وہ مختلف طور کی حد بندی که جوان تمام چیزوں کی قوتوں اور طاقتوں اور اجسام کی شکلوں اور رنگوں اور مقداروں میں پائی جاتی ہے ایک حد بست کرنے والے پر پختہ اور کامل دلیل ہو۔ یادر ہے کہ انسان کو صرف خدا کی شناخت کے لئے پیدا کیا گیا ہے پس اگر یہ نظام عالم کا اس طرح پر واقع ہو کہ خدا کے وجود پر دلالت نہ کرے تو تمام مصنوعات کا ایک فضول وجود ہو گا جس پر نظر ڈالنے سے ہم اپنے خدا کو شناخت نہیں کر سکتے ۔ پس فقط اسی حالت میں خدا تعالی کی شناخت کے لئے یہ نظام عالم مفید ہو سکتا ہے جب کہ اس کی وحدت نظامی پر نظر کر کے خدا تعالیٰ کے وجود پر دلیل قائم ہو سکے اور وہ صورت صرف یہی صورت ہے کہ اجسام اور حیوانات میں جو جو تفاوت مقدار اور طاقت اور قوت میں پایا جاتا ہے اعمال کا نتیجہ نہ سمجھا جائے بلکہ یہ تمام امور خدا کی ذات پر استدلال کرنے کے لئے اس کے قدرتی کام سمجھے جائیں اور یہ تمام حد بندی اس کی محض اس ارادہ سے اور اس غرض سے سمجھی جائے کہ تا اس قادر کے وجود پر جو حد باندھنے والا ہے ایک دلیل ہو اور تا اس کی مخلوقات کو محض اُس کی صنائع قرار دے کر اس پہلو سے بھی اس کے وجود پر دلیل قائم ہو سکے کہ اُس نے نہ تناسخ کی مجبوری سے بلکہ خود عمداً ارادہ کیا ہے کہ انسان کی نسل زمین پر پھیلے اور جو کچھ انسانی وجود کے لئے آرام اور راحت اور دوا اور غذا کے لئے ضرورتیں ہیں سب اس کے لئے مہیا ہوں اگر ایسا سمجھا جائے تو بلا شبہ یہ تمام چیزیں اس کے وجود پر دلالت کرتی ہیں جیسا کہ کسی نے کہا ہے ؎ برگ درختان سبز در نظر هوشیار ہر ورقے دفتر یست معرفت کردگار