چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 19

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۹ چشمه معرفه کی حد بندی اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ اُن کا بھی کوئی خالق اور حد باندھنے والا ہے۔ (1) اور اس جگہ تناسخ کا لغو اور بے ہودہ جھگڑا پیش کرنا خدا تعالیٰ کے کاموں میں اختلاف ڈالنا ہے کیونکہ عقل صریح شہادت دیتی ہے کہ یہ دونوں حد بندیاں ایک ہی انتظام کے ماتحت ہیں اور ان دونوں حد بندیوں سے ایک ہی مقصود ہے اور وہ یہ کہ تا حد بندی سے حد باندھنے والے کا پتہ لگ جائے اور تا معلوم ہو جائے کہ جیسا کہ وہ اجسام کا خالق اور حد باندھنے والا ہے ایسا ہی وہ ارواح کا خالق اور حد باندھنے والا ہے۔ پس آریہ صاحبوں کی یہ عجیب چالا کی ہے کہ دراصل تو وہ پرمیشر کو مالک ہونے سے جواب دیتے ہیں اور ہر ایک روح اور ذرہ کو خود بخود سمجھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ وہ ہر ایک چیز کا مالک ہے۔ مالک تو تب ہوتا کہ ہر ایک کی حد بندی کرنے والا وہی ٹھیرتا ۔ اور پھر ہم کہتے ہیں کہ حیوانات کی طاقتوں اور قوتوں کی تفاوت کا سبب تناسخ اور اواگون کو قرار دینا خدائے حکیم کے علم اورست وڈیا کو ضائع کرنا اور اس کی وحدت نظامی کو درہم و برہم کرنا ہے۔ جس حالت میں تم مثلاً ستاروں اور سورج اور چاند پر نظر ڈال کر اپنے منہ سے اقرار کرتے ہو کہ وہ تفاوت جوان ستاروں کی قوت اور طاقت اور تمام لوازم میں واقع ہے وہ کسی تناسخ اور اواگون کا موجب نہیں بلکہ حکمت اور مصلحت الہیہ نے یہی چاہا تاہر ایک چیز اپنی اپنی حد بندی کی رو سے حد باندھنے والے پر دلالت کرے اور اس طرح اس غیب الغیب اور وراء الوراء پر ایک دلیل قائم ہو جائے تو پھر کیوں اُسی منہ سے وہ تفاوت جو حیوانات میں پایا جاتا ہے اس کو تم تناسخ اور اواگون کی طرف کھینچ کر لے جاتے ہو۔ یا تو یہ مان لو کہ کل تفاوت اور باہمی فرق طاقتوں اور قوتوں اور خاصیتوں کا جو آسمان کے ستاروں اور زمین کے جمادات نباتات حیوانات میں پایا جاتا ہے ان سب کا سبب تناسخ اور اواگون ہے اور یا یہ مان لو کہ یہ تمام تفاوت اور مختلف قسم کی حد بندیاں تمام عالم کی چیزوں میں خواہ وہ حیوانات ہیں یا غیر حیوان یہ صرف اسی وجہ سے ہیں کہ تا ان حد بندیوں سے ایک ذات حد باندھنے