چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 385

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۸۵ چشمه معرفت طرح اعلان بھی کر دیں۔ ہاں ہم آپ کے عقائد مروجہ پر عملدرآمد کرنے سے تو مجبور ہیں کیونکہ خدا نے ہمیں بتلا دیا ہے کہ پہلی کتابیں اپنی صحت پر قائم نہیں رہیں نیز آپ کا مذہبی تفرقہ اس سے مانع ہے کیونکہ آریہ ورت کے صدہا مختلف رائے فرقے وید ہی کی طرف اپنے تئیں منسوب کرتے ہیں۔ پس ہم کس کس عقیدے کی تصدیق کریں۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک شخص سے عقائد متناقضہ کی پابندی محال ہے ہر ایک فرقہ اپنی طرف ہی کھینچے گا اور اس جھگڑے میں پڑنا ہی فضول ہے کیونکہ خدا کے آخری حکم نے جو قرآن شریف ہے دوسرے احکام کی پیروی سے ہمیں مستغنی کر دیا ہے۔ پس بالفعل ہم آپ سے صلح کاری کے لئے صرف یہی چاہتے ہیں کہ آپ اجمالی طور پر (۱۴) قرآن شریف کے مصدق ہوں جیسا کہ ہم اجمالی طور پر مصدق ہیں اور اگر بعد میں کوئی سعید آدمی ترقی کرے تو یہ خدا کا فضل ہے۔ غرض ہم اس اصول کو ہاتھ میں لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں کہ آپ گواہ رہیں جو ہم نے مذکورہ بالا طریق کے ساتھ آپ کے بزرگوں کو مان لیا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے تھے اور آپ کی صلح پسند طبیعت سے ہم امید وار ہیں کہ آپ بھی ایسا ہی مان لیں یعنی صرف یہ اقرار کر لیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول اور صادق ہیں۔ جس دلیل کو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے وہ نہایت روشن اور کھلی کھلی دلیل ہے۔ اور اگر اس طریق سے صلح نہ ہو تو آپ یا درکھیں کہ کبھی صلح نہ ہوگی بلکہ روز بروز کینے بڑھتے جائیں گے۔ مسلمان وہ قوم ہے جو اپنے نبی کریم کی عزت کے لئے جان دیتے ہیں اور وہ اس بے عزتی سے مرنا بہتر سمجھتے ہیں کہ ایسے شخصوں سے دلی صفائی کریں اور اُن کے دوست بن جائیں جن کا کام دن رات یہ ہے کہ وہ اُن کے