چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 384

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۸۴ چشمه معرفت مورکھ اور نادان ہے کہ جہالت اور نادانی میں دنیا میں کوئی اس کی نظیر نہیں ایک شخص جو کسی کے باپ کو گندی گالیاں دیتا ہے اور پھر چاہتا ہے کہ اُس کا بیٹا اس سے خوش ہو یہ کیونکر ہو سکتا ہے۔ جو لوگ محض زبان سے کسی قوم کے ساتھ صلح کرنے کے لئے زور دیتے ہیں اُن کو چاہیے کہ صلح کاری کے کام بھی دکھلائیں ۔ اے ہم وطن پیارو! میری اس بات پر غور کرو اور یوں ہی نہ پھینک دو جبکہ ہم ایک ہی ملک میں رہتے ہیں چاہیے کہ باہم ایسی محبت کریں کہ ایک دوسرے کے اعضاء ہو جائیں مگر یہ بھی یا درکھو کہ اگر منافقانہ طور پر محبت ہو تو وہ محبت نہیں ہے بلکہ وہ ایک زہریلہ ۱۳ تخم ہے جو بعد میں اپنا مہلک پھل دکھلائے گا۔ صلح کاری بہت عمدہ چیز ہے مگر بد زبانی اور صلح کاری دونوں ہرگز جمع نہیں ہو سکتے ۔ پس اے صاحبان ! کیا آپ لوگ اس بات کے لئے طیار ہیں یا نہیں کہ صلح کی بنیاد ڈالنے کے لئے اس پاک اصول کو قبول کر لیں کہ جیسے ہم سچے دل سے آپ کے بزرگ رشیوں اور او تاروں کو صادق جانتے ہیں جن پر آپ کی قوم کے کروڑ ہا لوگ ایمان لا چکے ہیں اور اُن کے نام عزت سے زبانوں پر جاری ہیں ۔ ایسا ہی آپ لوگ بھی صدق دل سے اس کلمہ پر ایمان لے آئیں کہ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ تا جس اتحاد اور صلح کے لئے ہم نے قدم اُٹھایا ہے اُس میں آپ بھی شریک ہو کر اُس تفرقہ کو دور کر دیں جو ملک کو کھاتا جاتا ہے۔ ہم آپ سے کوئی ایسا مطالبہ نہیں کرتے جس سے ہم نے پہلے خود حصہ نہیں لیا۔ اور ہم آپ سے کوئی ایسا کام کرانا نہیں چاہتے جو ہم نے آپ نہیں کیا۔ بچی صلح اور کینوں کے دور کرنے کے لئے صرف اس قدر کافی ہے کہ جیسا کہ ہم آپ کے بزرگ اوتاروں اور رشیوں کو صادق مانتے ہیں اسی طرح آپ بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق مان لیں اور اس اقرار کا آپ ہماری