چشمہٴ معرفت — Page 383
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۸۳ چشمه معرفت طیار ہو جاتی ہیں ۔ خاص کر ہمارے مقدس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو گندی گالیاں دیتے ہیں وہ صرف زبان سے تو صلح صلح کرتے ہیں مگر اسی زبان کو تلوار کی طرح کھینچ کر ہمارے اُس پیارے نبی پر چلاتے ہیں جس کے قدموں کے نیچے ہماری جانیں ہیں ۔ ہم لوگ عجیب مظلوم ہیں کہ ہم تو قرآن شریف کی تعلیم کے موافق دنیا کے ہر ایک نبی کو جو مقبول الا نام گذرے ہیں عزت اور تعظیم کی راہ سے دیکھتے ہیں اور اُن پر ایمان لاتے ہیں مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت جو کچھ ہمارے مخالف کہتے ہیں اور لکھتے ہیں اُس کو تمام زمانہ جانتا ہے ۔ ہم اس بات کا اعلان کرنا اور اپنے اس اقرار کو تمام دنیا میں شائع کرنا اپنی ایک سعادت سمجھتے ہیں کہ حضرت ۱۲ کی ا موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام اور دوسرے نبی سب کے سب پاک اور بزرگ اور خدا کے برگزیدہ تھے ۔ ایسا ہی خدا نے جن بزرگوں کے ذریعہ سے پاک ہدا یتیں آریہ ورت میں نازل کیں اور نیز بعد میں آنے والے جو آریوں کے مقدس بزرگ تھے جیسا کہ راجہ رام چندر اور کرشن یہ سب کے سب مقدس لوگ تھے اور ان میں سے تھے جن پر خدا کا فضل ہوتا ہے مگر ہم اس شکایت کے لئے کس کے آگے روویں اور کس سے ہم اس بات کا انصاف طلب کریں کہ دوسری قو میں ہم سے یہ معاملہ نہیں کرتیں ۔ دیکھو یہ کیسی پیاری تعلیم ہے جو دُنیا میں صلح کی بنیاد ڈالتی ہے اور تمام قوموں کو ایک قوم کی طرح بنانا چاہتی ہے یعنی یہ کہ دوسری قوموں کے بزرگوں کو عزت سے یاد کرو اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ سخت دشمنی کی جڑھ اُن نبیوں اور رسولوں کی تحقیر ہے جن کو ہر ایک قوم کے کروڑہا انسانوں نے قبول کر لیا جو شخص کسی نبی کی تحقیر کرتا ہے یا تحقیر کرنے والے کا دوست اور حامی ہے اور پھر وہ اس قوم سے صلح چاہتا ہے جو اس نبی پر دل و جان سے قربان ہے وہ ایسا ہے جو