چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 381 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 381

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۸۱ چشمه معرفت چا کروں کی طرح آنجناب کی خدمت میں اپنے تئیں سمجھتے ہیں اور نام لینے سے تخت سے اتر آتے ہیں۔ اب سوچنا چاہیے کہ کیا یہ عزت کیا یہ شوکت کیا یہ اقبال کیا یہ جلال کیا یہ ہزاروں نشان آسمانی کیا یہ ہزاروں برکات ربانی جھوٹے کو بھی مل سکتی ہیں۔ ہمیں بڑا فخر ہے کہ جس نبی علیہ السلام کا ہم نے دامن پکڑا ہے خدا کا اس پر بڑا ہی فضل ہے ۔ وہ خدا تو نہیں مگر اس کے ذریعہ سے ہم نے خدا کو دیکھ لیا ہے ۔ اُس کا مذہب جو ہمیں ملا ہے خدا کی طاقتوں کا آئینہ ہے اگر اسلام نہ ہوتا تو اس زمانہ میں اس بات کا سمجھنا محال تھا کہ نبوت کیا چیز ہے اور کیا معجزات بھی ممکنات میں سے ہیں اور کیا وہ قانون قدرت میں داخل ہیں ۔ اس عقدے کو اُسی نبی کے دائمی فیض 10 م نے حل کیا اور اُسی کے طفیل سے اب ہم دوسری قوموں کی طرح صرف قصہ گو نہیں ہیں بلکہ خدا کا نور اور خدا کی آسمانی نصرت ہمارے شامل حال ہے ۔ ہم کیا چیز ہیں جو اس شکر کو ادا کر سکیں کہ وہ خدا جو دوسروں پر مخفی ہے اور وہ پوشیدہ طاقت جو دوسروں سے نہاں در نہاں ہے ۔ وہ ذوالجلال خدا محض اس نبی کریم کے ذریعہ سے ہم پر ظاہر ہو گیا ۔ پھر یہ عجیب بات ہے کہ اُسی کامل نبی سے مخالف قوموں کا سب سے بڑھ کر بغض ہے ۔ اُسی کی توہین کے لئے اور اُسی کی تکذیب کی غرض سے جس قدر دنیا میں کتا بیں شائع ہوئی ہیں ابتدائے دنیا سے آج تک کسی اور نبی کی تو ہین کے لئے اس کثیر مقدار کی کتابیں شائع نہیں ہوئیں ۔ اس سے ثابت ہے کہ جس سے خدا زیادہ پیار کرتا ہے اور جس کو زیادہ اپنے جلال اور بزرگی سے حصہ بخشا ہے اُسی سے یہ اندھی دنیا زیادہ دشمنی کرتی ہے مگر اُسی عظیم الشان نبی نے ہمیں سکھایا ہے کہ جن جن نبیوں اور رسولوں کو دنیا کی تو میں مانتی چلی آئی ہیں اور خدا