چشمہٴ معرفت — Page 379
روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت کیونکہ بدذات مفتری کو جو خدا پر افترا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے خدا کی طرف سے وحی ہوئی اور خدا نے مجھ سے کلام کیا حالانکہ نہ کوئی وحی اُس پر نازل ہوئی اور نہ خدا نے کوئی اُس سے کلام کیا اس قدر عزت ہر گز نہیں دی جاتی جو شخص جائز رکھتا ہے جو ایسی عزت مفتری کو بھی دی جاتی ہے اور ایسی مدد اور نصرت اور ایسے آسمانی نشان اُس کذاب دجال کو بھی ملتے ہیں جو خدا پر افترا کرتا ہے ایسا شخص دراصل خدا پر ایمان نہیں رکھتا اور در پردہ دہر یہ ہے یہی سچائی کی ایک زبر دست دلیل ہے جو دنیا کے تمام نبیوں سے زیادہ ہمارے سید و مولی اور ہمارے محترم آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی ہے کیونکہ وہ اقبال اور عزت اور خدا کی مدد اور نصرت جو اُن کو ملی وہ کسی اور نبی کو حاصل نہیں ہوئی۔ آپ ایسے وقت میں آئے جو دنیا شرک اور بت پرستی سے بھری ہوئی تھی کوئی پتھر کی پوجا کرتا تھا اور کوئی (۸) آگ کی پرستش میں مشغول تھا اور کوئی سورج کے آگے ہاتھ جوڑتا تھا۔ کوئی پانی کو اپنا پر میشر خیال کرتا تھا اور کوئی انسان کو خدا بنائے بیٹھا تھا۔ علاوہ اس کے زمین ہر ایک قسم کے گناہ اور ظلم اور فساد سے بھری ہوئی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اُس زمانہ کی موجودہ حالت کے بارہ میں قرآن شریف میں خود گواہی دی ہے اور فرماتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یعنی دریا بھی بگڑ گئے اور خشک زمین بھی بگڑ گئی ۔ مطلب یہ کہ جس قوم کے ہاتھ میں کتاب آسمانی تھی وہ بھی بگڑ گئی اور جن کے ہاتھ میں کتاب آسمانی نہیں تھی اور خشک جنگل کی طرح تھے وہ بھی بگڑ گئے اور یہ امر ایک ایسا سچا واقعہ ہے کہ ہر ایک ملک کی تاریخ اس پر گواہ ناطق ہے۔ کیا آریہ ورت کے دانا مورخ اس سے انکار کر سکتے ہیں کہ آنجناب کے ظہور کا زمانہ در حقیقت ایسا ہی تھا اور بت خانوں کو اس قدر عزت دی گئی تھی کہ گویا وید کا اصل مذہب الروم : ۴۲