چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 375 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 375

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۷۵ چشمه معرفت اور کہتے ہیں کہ اگر انسانی قومی کو عمدہ اور کامل طور پر استعمال کیا جائے تو رہبری کے لئے وہی کافی ہیں اور بعض ایسے فرقے ہیں کہ وہ مانتے ہیں کہ خدا کا کلام دنیا میں آیا ہے مگر اُن کا خیال ہے کہ اس زمانہ میں خدا نے اپنی عادت کو بدل لیا ہے اور کلام الہی کا نزول آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ گو خدا تعالیٰ کسی زمانہ میں بولتا بھی تھا اور سنتا بھی مگر اس زمانہ میں سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں گویا ایک قدیمی صفت اُس کی معطل ہوگئی ہے اور گویا اُن کے نزدیک اُس کی صفات اس زمانہ میں ناقص ہیں نہ کامل ۔ اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ کسی الہامی کتاب کو مانتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ قدیم سے خدا کا الہام ایک ہی زبان اور ایک ہی ملک اور ایک ہی قوم تک محدود رہا ہے اور الہام الہی کا دائرہ اس قدر تنگ ہے کہ بجز دو چار انسانوں کے جو کسی پہلے اور دور دراز زمانہ میں کسی خاص ملک میں گذر چکے ہیں اور کسی حصہ زمین میں کوئی ملہم کبھی پیدا نہیں ہوا اور نہ صرف اس حد تک بلکہ آئندہ کے لئے بھی تمام قوموں پر قطعا یہ دروازہ بند ہے بجز ایک خاص قوم اور خاص ملک کے ۔ یہ ہیں متفرق مذاہب جو الہام کی نسبت مذکورہ بالا خیالات رکھتے ہیں مگر ہم نے اس جگہ یہ بیان کرنا ہے کہ ہمارا کیا مذہب ہے۔ پس واضح ہو کہ خدا نے ہمیں جس بات پر قائم کیا ہے اور جس بات کو اپنی پاک (۴) کتاب کے ذریعہ سے ہم پر کھول دیا ہے وہ یہ ہے کہ خدا سچ ہے اور اس کا الہام سچ ہے اور چونکہ وہ خدا تمام دنیا کا خدا ہے نہ یہ کہ کسی ایک خاص فرقہ یا کہ کسی خاص قوم کا خدا اس لئے اُس نے اپنے اس ضروری فیض سے یعنی الہام سے جو ہدایت کا سرچشمہ ہے دنیا کے تمام حصوں کو منور اور مستفیض کیا ہے اور کسی قوم سے بخل نہیں کیا اور ایسا ہی ہونا چاہیے تھا کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جن امور پر جسمانی حیات کا مدار ہے جیسے زمین ، پانی ، آگ، ہوا، سورج، چاند، اناج وغیرہ یہ تمام چیزیں تمام ملکوں اور قوموں میں پائی