چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 354

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۵۴ چشمہ معرفت ۔ خاتمہ کتاب کوس سے سکھ لوگ آتے ہیں اور ہزار ہا روپیہ بطور نذر چڑھاتے ہیں۔ یہ اس بات پر صاف دلیل ہے کہ باوا نا تک صاحب اور نیز اُن کے گدی نشین اور پیر و صدق دل سے قرآن شریف پر ایمان لاتے تھے اور اس کو در حقیقت خدا کا کلام سمجھ کر اُس کا ادب کرتے تھے اگر کوئی شخص تجاہل کے رو سے اس کا انکار کرے تو اس سے ہمیں کچھ غرض نہیں لیکن بلاشبہ باوا صاحب اور اُن کے گدی نشینوں کے اسلام پر یہ ایسا کھلا کھلا ثبوت ہے کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں۔ پھر جب ہم اس کے ساتھ اس ثبوت کو دیکھتے ہیں جو اس تبرک سے ہمیں ملتا ہے جو ڈیرہ نانک ضلع گورداسپور میں موجود ہے جس کا ہم نے اپنی کتاب ست بچن میں مفصل ذکر کیا ہے یعنی چولہ صاحب جس پر بہت سی قرآن شریف کی آیتوں کے ساتھ یہ کلمہ شہادت بھی لکھا ہوا ہے اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله تو بلا شبه | ہمیں راستی کی پابندی سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ باوانا تک صاحب نہ صرف عام مسلمانوں کی طرح ۳۳۹) مسلمان تھے بلکہ اُن کو اسلام کے اُن اولیاء اور بزرگوں میں سے شمار کرنا چاہیے جو اس ملک میں گذر چکے ہیں ۔ اب بعد اس کے ہم ذیل میں چند ملفوظات با وانا تک صاحب جو گرنتھ اور جنم ساکھیوں میں لکھے ہوئے ہیں ذیل میں درج کرتے ہیں اور اس بات کا انصاف ناظرین پر چھوڑتے ہیں کہ اگر ان تمام امور کو یک جائی نظر سے دیکھا جائے تو کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ باوانا تک صاحب کو مذہب کی رو سے ہندوؤں سے کچھ بھی تعلق نہ تھا بلکہ وہ مرد خدا کامل مسلمانوں میں سے ایک مسلمان تھا۔ وہ آریہ قوم میں اس غرض سے پیدا ہوا کہ تا خدا سے الہام پا کر اسلام کی سچائی کا اقرار کرے اور پھر اپنی اس گواہی سے تمام ہندوؤں کو ملزم کر کے خدا کے سامنے قیامت کے دن اُن پر نالش کرے۔ پس باوا نا تک صاحب کا وجود تمام ہندوؤں پر خدا تعالیٰ کی ایک حجت ہے خاص کر سکھوں پر جو اُن کے پیروکہلاتے ہیں۔ خدانے