چشمہٴ معرفت — Page 353
۳۳۸ ۳۵۳ روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمہ معرفت ۔ خاتمہ کتاب اُن کی جاگیریں ہیں۔ ان تبرکات کو دیکھنے کے واسطے اور ان سے فیض حاصل کرنے کے واسطے بعض بڑے بڑے آدمی وہاں جایا کرتے ہیں چنانچہ ایک دفعہ گذشتہ مہاراجہ صاحب والی ریاست فرید کوٹ بھی خود وہاں گئے تھے اور مشہور ہے کہ انہوں نے ایک ہاتھی اور ایک ہزار روپیہ نقد ان تبرکات کے سبب گرو صاحب کی نذر کیا تھا۔ قرآن شریف اور دیگر تبرکات مفصلہ ذیل صاحبان کو ۴ را پریل ۱۹۰۸ ء شنبہ کے دن گورو بشن سنگھ صاحب نے دکھائے چنانچہ قرآن شریف کو کھول کر پڑھا گیا۔ وہ ایک نہایت خوشخط لکھی ہوئی حمائل شریف ہے جس کا سائز تخمین ۳ انچ چوڑا اور ہم انچ لمبا ہے۔ ہر صفحہ پر اردگر دسنہری لکیریں پڑی ہیں اور بعض مقامات پر سنہری بیل ہے۔ موجودہ گر وصاحب کا بیان ہے کہ پرانے گر وصاحبان سے یہ قرآن شریف بطور تبرک کے چلا آتا ہے۔ ہماری جماعت کے معزز ارکان میں سے جس جس صاحب نے موقعہ پر پہنچ کر اس قرآن شریف کی زیارت کی ہے اُن صاحبان کے نام یہ ہیں۔ (۱) مفتی محمد صادق صاحب اڈیٹر اخبار بدر قادیان۔ (۲) مولوی محمد علی صاحب ایم اے اڈیٹر رسالہ ریویوآف ریلیجنز قادیان۔ (۳) میرزا محموداحمد ( میرا بڑالٹر کا ) اڈیٹر رسالہ تشحیذ الا ذہان ۔ (۴) سید امیر علی شاہ صاحب سب انسپکٹر جلال آباد۔ (۵) حکیم ڈاکٹر نور محمد صاحب لاہوری ما لک کارخانہ ہمدم صحت لاہور ۔ (1) شیخ عبدالرحیم صاحب نو مسلم ( سابق جگت سنگھ ) (۷) چودھری فتح محمد صاحب طالب علم گورنمنٹ کالج لاہور ۔ اب ہم اس جگہ اس بات کے بیان کرنے سے خاموش نہیں رہ سکتے کہ یہ قرآن شریف کہ جو باوا نا تک صاحب کے گدی نشین گروؤں کے تبرکات میں نہایت عزت اور ادب کے ساتھ اب تک اس خاندان میں چلا آیا ہے جس کی زیارت کے لئے صدہا