چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 351

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۵۱ چشمہ معرفت ۔ خاتمہ کتاب سے بیزار کر کے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور جن کے سینوں میں وہ اپنی محبت کی آگ رکھ دیتا ہے ۔ اس کا کلام جابجا ثابت کرتا ہے کہ اُس نے ہندوؤں کے دیدوں میں بہت غور کی مگر اُن سے کچھ تسلی نہیں پائی آخر ویدوں سے اُس کا دل بیزار ہو گیا اور اُس وقت کے خدا رسیدہ مسلمانوں سے اُس نے تعلق پیدا کیا اور ایک زمانہ دراز تک اُن کی صحبت میں رہا آخر ان کے رنگ سے رنگین ہو گیا۔ اب تک اُس کی یادگار میں وہ چلہ کشی کے مقام پائے جاتے ہیں جس جس جگہ اُس نے اولیاء اللہ کے قرب وجوار میں خدا کی راہ میں مجاہدات کئے چنانچہ اس نیت سے میں ایک مرتبہ ملتان پہنچ کر ایک بزرگ کی خانقاہ پر گیا تو ایک دیوار پر باوا نا نک صاحب کے ہاتھ سے یا اللہ لکھا ہوا د یکھا اور مجاوروں نے مجھے چلہ کشی کا مقام دکھایا اور وہ مسجد بھی دکھائی جس میں وہ نماز پڑھتے تھے ۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ زندہ خدا کا طالب تھا اور زندہ مذہب کو ڈھونڈتا تھا آخر خدا اُس پر ظاہر ہوا اور راہ راست اُس کو دکھلا دیا۔ باوا صاحب کے تبرکات بھی جواب تک اُن کی اولاد یا جانشینوں کی اولاد کے ہاتھ میں موجود ہیں وہ تبرکات بھی بزبان حال بیان کر رہے ہیں کہ باوانا تک صاحب اور جانشین اُن کے درحقیقت مسلمان تھے اور حکمت الہیہ سے وہ مخفی رہے وہ تمام تبرکات باوا صاحب کے ۳۳۶ اسلام پر ایک عجیب شہادت ہے اور میں نے ان شہادتوں کے فراہم کرنے میں بہت محنت کی آخر خدا کے فضل سے کافی شہادتیں مجھے مل گئیں ۔ چنانچہ ذیل میں باوا صاحب کے تبرکات میں سے ایک عجیب شہادت پیش کرتا ہوں ۔ بمقام گرو ہر سہائے واقع ضلع فیروز پور سکھوں کے ایک نہایت معزز خاندان کے قبضہ میں باوا نا نک صاحب اور اُن کے بعد کے گدی نشین گروؤں کے چند تبرکات چلے آتے ہیں جن میں ایک تسبیح (جس کو ہندو مالا کہتے ہیں) باوا صاحب موصوف کی اور ایک پوتھی اور ایک قرآن شریف اور چند دیگر اشیاء ہیں۔ یہ قرآن شریف اور دیگر تبرکات