چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 15

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۵ چشمه معرفت نکاح میں ہے دوسرے سے ہم بستر کراوے بلکہ ایک مدت دراز تک دست شخصوں سے ہم بستر (۷) کرا سکتا ہے۔ ایسے لوگوں سے افسوس ہی کیا ہے اگر وہ اپنے سخت الفاظ سے ہمارا دل دُکھاویں تو ہمیں صبر کرنا چاہیے جب تک کہ ہمارا اور اُن کا خدا تعالیٰ فیصلہ کرے اور اسی صبر کے لئے خدا تعالیٰ کے قرآن شریف میں یہ تعلیم ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمُ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ اشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوْا فَإِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (ال عمران (ع) (ترجمہ) البتہ تم اپنے مالوں اور جانوں کے بارے میں آزمائے جاؤ گے اور تم اہل کتاب اور مشرکوں سے بہت دل آزار باتیں سنو گے اور اگر تم صبر کرو گے اور جوش اور اشتعال سے اپنے تئیں بچاؤ گے تو یہ بات ہمت کے کاموں سے ہے۔ اور یاد رہے کہ آریہ صاحبوں نے جو ہمارے مضمون سے اپنے مضمون کا پڑھنا آخری دن پر رکھا تو اُن کی یہ غرض تھی کہ تا اپنے مضمون میں جہاں تک بس چل سکے ہماری کسی بات کا رڈ لکھ دیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مضمون میں ایسا کرنا چاہا مگر پھر بھی اپنی پردہ دری کرائی ۔ اگر وہ بے جا حملہ نہ کرتے تو ہمیں کچھ ضرور نہ تھا کہ ہم اُن کے اس غلط بیان کا پردہ کھولتے جو انہوں نے وید کی اعلیٰ تعلیم ہونے کے بارے میں پیش کیا ہے مگر اب ہمیں اُن کے جھوٹ کا پردہ کھولنے کے لئے پبلک کے آگے اس بات کو ظاہر کرنا پڑا کہ اُن کا بیان وید کی تعلیم کی نسبت کہاں تک صحیح اور راست ہے ۔ اور بعد اس کے ہم اُن حملوں کا جواب دیں گے جو نادان معترض نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف اور اسلام پر کئے ہیں ۔ سو ہم اپنی تحریر کو دوحصوں پر منقسم کرتے ہیں ۔ ال عمران : ۱۸۷