چشمہٴ معرفت — Page 14
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۴ چشمه معرفت خاص آریوں کے حصہ میں ہے مگر ہم تمام قوم کو بدنام نہیں کرتے ۔ سناتن دھرم والے بھی تو قدیم آریہ ہیں جن کی کثرت کے مقابل پر یہ چھوٹا سا گروہ نئے آریوں کا کچھ بھی چیز نہیں مگر ہزار ہا لوگ اُن میں ایسے ہیں کہ جو شرافت سے کلام کرتے ہیں اور کسی نبی کی تو ہین نہیں کرتے اور بے حیائی اور بد زبانی سے پر ہیز کرتے ہیں۔ مگر ان لوگوں کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ بد زبانی میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔ اگر پاک باطنی اور روحانیت کا کچھ حصہ نہیں تو آخر شرافت اور تہذیب بھی کچھ چیز ہے۔ مسلمان ان کے قدیم ہمسایہ تھے ان کا دل کھلے کھلے طور پر ڈ کھانا اور گالیوں کے ساتھ پیش آنا روا نہ تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ یوں تو یہ لوگ وید وید کرتے ہیں مگر کچی پاکیزگی اور روحانیت اور خدا ترسی ان کے دلوں سے اُٹھ گئی ہے اور اخلاق فاضلہ کے عوض کینہ اور شرارت اور بغض اور بد اندیشی اور دل آزاری نے جگہ لے لی ہے جس کا انجام اچھا نہیں۔ خدا کو پسند نہیں کہ یہ بد زبانیاں اس کے پاک رسولوں کے ساتھ کی جائیں۔ ان بد قسمت ظالموں کو ایک ذرہ حقیقت اسلام معلوم نہیں اور نہ وہ پاک تعلیم معلوم ہے جس کو قرآن شریف لے کر آیا ہے صرف محض پادریوں کی کاسہ لیسی سے جن کا دن رات تحریف و تبدیل کام ہے دشمن اسلام ہو گئے ہیں ۔ قرآنی تعلیم وہ تعلیم ہے جس کی ایک بات بھی حق اور حکمت سے باہر نہیں اور جو سراسر پاکیزگی سکھاتا ہے مگر افسوس کہ وہ لوگ اُس کو تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں جو ایک ذرہ ذرہ کو غیر مخلوق ہونے میں خدا کے برابر کرتے ہیں اور خدا کی نسبت یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ نعوذ باللہ کسی روح اور کسی ایک ذرہ کا بھی پیدا کرنے والا نہیں اور ایسا بخیل طبع ہے جو اپنے عاشقوں اور سچے پرستاروں کے گذشتہ گناہ نہیں بخشا۔ اور باوجود یکہ اس کی راہ میں کوئی جان بھی دے دے تب بھی پرانا کینہ نکالتا ہے اور ضرور اُس کو سزا دیتا ہے پس جن کے خیالات خدا تعالیٰ کی نسبت یہ ہیں اور پھر انسانوں کے لئے یہ تعلیم ہے کہ گویا وہ حکم دیتا ہے کہ اولاد پیدا کرنے کے لئے ایک آریہ اپنی منکوحہ بیوی کوئین اس حالت میں کہ اُس کے