چشمہٴ معرفت — Page 331
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۳۱ چشمه معرفت نام مسیح موعود ہے صینی الاصل ہو گا یعنی اس کے خاندان کی اصل جڑھ چین ہوگی اور نیز وہ توام پیدا ہو گا ایک لڑکی اُس کے ساتھ ہوگی اور یہ وضع حمل کے وقت پہلے پیدا ہوگی اور وہ بعد میں پیدا ہوگا ۔ پس اسی طرح میری پیدائش ہوئی اور میں توام کے طور پر جمعہ کے دن صبح کے وقت پیدا ہوا تھا۔ ممکن ہے کہ یہ پیشگوئی شیخ محی الدین ابن العربی کا اپنا کشف ہو یا کوئی حدیث اس کو پہنچی ہو۔ بہر حال وہ پیشگوئی میرے پیدا ہونے کے ساتھ پوری ہوگئی اور اب تک اسلام میں میرے سوا کوئی ایسا پیدا نہیں ہوا کہ وہ صینی الاصل بھی ہوا اور توام بھی پیدا ہوا ہو اور پھر اُس نے خاتم الخلفاء ہونے کا دعوی بھی کیا ہو۔ لا حاشیہ شیخ محی الدین ابن العربی صاحب کی اس پیشگوئی سے خدا کا وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا اور میری کتاب براہین احمدیہ میں شائع کیا گیا بظا ہر ایک تناقض رکھتا ہے کیونکہ اس کلام میں مجھے فارسی الاصل ٹھہرایا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے خذوا التوحيد التوحيد يا ابناء الفارس (ترجمہ) تو حید کو پکڑ وتو حید کو پکڑ والے فارس کے بیٹو۔ اور پھر اسی براہین احمدیہ میں دوسری جگہ فرماتا ہے ان الذين صدوا عن سبيل الله ردّ عليهم رجــل مـن فارس شکر الله سعید یعنی جو لوگ اسلام کے مخالف ہیں اور خدا کی راہ سے روکتے ہیں ایک فارسی نے ( یعنی اس عاجز نے ) اُن کا رد لکھا ہے خدا اس کی سعی کا شکر گزار ہے۔ اور پھر تیسری جگہ اسی براہین احمدیہ میں فرمایا ہے لو كان الايمان معلقا بالثريا لناله رجل من فارس یعنی اگر ایمان زمین پر سے اٹھ جاتا اور ثریا پر چلا جاتا تب بھی ایک انسان فارس میں سے (یعنی یہ عاجز ) اُس کو وہاں پہنچ کر لے لیتا۔ اس تناقض کا جواب یہ ہے کہ اسلام کے شائع ہونے کے بعد بہت سے مسلمان چین میں جا کر آباد ہوئے تھے اور ان کی تاثیر وعظ سے کئی کروڑ چینی مسلمان ہو گیا تھا اسی وجہ سے اب بھی چھین میں چھ کروڑ سے زیادہ مسلمان ہیں سوممکن ہے کہ بعض فاری بھی وہاں جا کر آباد ہو گئے ہوں اور پھر اس وجہ سے چینی کہلانا ایک لازمی امر تھا جیسا کہ بہت سے عرب جو ابتدا میں ہندوستان میں آئے تھے اب ہندی کہلاتے ہیں چنانچہ تمام سادات اور قریش اسی قسم کے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جیسا کہ بظاہر سمجھا جاتا ہے ہمارا خاندان مغلیہ خاندان مشہور ہے جو بلاشبہ صینی الاصل ہے لیکن جو کچھ خدانے ظاہر فر مایا وہ بلاشبہ یہی ہے۔ منہ فارس کے لفظ پر خدا تعالیٰ نے الف لام لگا دیا ہے جو موجودہ نحو کے قاعدہ کے رو سے صرف فارس چاہیے تھا۔ خدا کا کلام انسانی نحو سے ہر ایک جگہ موافق نہیں ہوتا ایسے الفاظ اور فقرات اور ضمائر جو انسانی نحو سے مخالف ہیں قرآن شریف میں بھی پائے جاتے ہیں۔ منہ