چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 329

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۲۹ چشمه معرفت کہ تم اس قدر عمر پاؤ گے کہ اُن کو دیکھ لوگے اور جو نشانیاں زمانہ مہدی معہود کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کی تھیں جیسا کہ اس کے زمانہ میں کسوف خسوف رمضان میں ہونا اور طاعون کا ملک میں پھیلنا یہ تمام شہادتیں میرے لئے ظہور میں آگئیں اور اس وقت تک چودھویں (۳۱۵) صدی کا بھی میں نے چہارم حصہ پالیا۔ یہ اس قدر دلائل اور شواہد ہیں کہ اگر وہ سب کے سب لکھے جائیں تو ہزار جزو میں بھی سمانہیں سکتے ۔ حاشیہ: یہ دار قطنی کی حدیث ہے کہ مہدی موعود کی یہ بھی نشانی ہے کہ خدا اس کے لئے اُس کے زمانہ میں یہ (۳۱۳ نشان ظاہر کرے گا کہ چاند اپنی مقررہ راتوں میں سے (جو اس کے خسوف کے لئے خدا نے راتیں مقرر کر رکھی ہیں یعنی تیرھویں چودھویں پندرھویں) پہلی رات میں گرہن پذیر ہوگا اور سورج اپنے مقررہ دنوں میں سے ( جو اس کے کسوف کے لئے خدا نے دن مقرر کر رکھے ہیں یعنی ۲۷ و ۲۸ و ۲۹ ) درمیانی دن میں کسوف پذیر ہوگا اور یہ دونوں خسوف کسوف رمضان میں ہوں گے اور ایک حدیث میں ہے کہ مہدی کے وقت میں یہ دو مرتبہ واقع ہوں گے ۔ چنانچہ یہ دونوں دو مرتبہ میرے زمانہ میں رمضان میں واقع ہو گئے ۔ ایک مرتبہ ہمارے اس ملک میں دوسری مرتبہ امریکہ میں ۔ اور ہمیں اس بات سے بحث نہیں کہ ان تاریخوں میں کسوف خسوف رمضان کے مہینہ میں ابتدائے دنیا سے آج تک کتنی مرتبہ واقع ہوا ہے۔ ہمارا مدعا صرف اس قدر ہے کہ جب سے نسل انسان دنیا میں آئی ہے نشان کے طور پر یہ خسوف کسوف صرف میرے زمانہ میں میرے لئے واقع ہوا ہے اور مجھ سے پہلے کسی کو یہ اتفاق نصیب نہیں ہوا کہ ایک طرف تو اس نے مہدی موعود ہونے کا دعوی کیا ہو اور دوسری طرف اس کے دعوے کے بعد رمضان کے مہینہ میں مقرر کردہ تاریخوں میں خسوف کسوف بھی واقع ہو گیا ہو اور اس نے اس کسوف خسوف کو اپنے لئے ایک نشان ٹھہرایا ہو ۔ اور دار قطنی کی حدیث میں یہ تو کہیں نہیں ہے کہ پہلے بھی کسوف خسوف نہیں ہوا۔ ہاں یہ تصریح سے الفاظ موجود ہیں کہ نشان کے طور پر یہ پہلے کبھی کسوف خسوف نہیں ہوا کیونکہ لَمْ تَكُونَا کا لفظ مؤنث کے صیغہ کے ساتھ دارقطنی میں ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ایسا نشان کبھی ظہور میں نہیں آیا۔ اور اگر یہ مطلب ہوتا کہ کسوف خسوف پہلے کبھی ظہور میں نہیں آیا تو لفظ لم يكونا مذکر کے صیغہ سے چاہیے تھا نہ کہ لم تکونا کہ جو مؤنث کا صیغہ ہے جس سے صریح ۳۱۵۶ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد آیتین ہے یعنی دونشان کیونکہ یہ مؤنث کا صیغہ ہے۔ پس جو شخص یہ خیال کرتا ہے