چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 327

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۲۷ بعض اہل علم صالح اور رشید طبع بھی ہیں اور وہ تھوڑے ہیں۔ چشمه معرفت اس زمانہ میں اسلام کے اکثر امراء کا حال سب سے بدتر ہے وہ گویا یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ صرف کھانے پینے اور فسق و فجور کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ دین سے وہ بالکل بے خبر اور تقویٰ سے خالی اور تکبر اور غرور سے بھرے ہوتے ہیں اگر ایک غریب ان کو السلام علیکم کہے تو اُس کے جواب میں وعلیکم السلام کہنا اپنے لئے عار سمجھتے ہیں بلکہ غریب کے منہ سے اس کلمہ کو ایک گستاخی کا کلمہ اور بے باکی کی حرکت خیال کرتے ہیں حالانکہ پہلے زمانہ کے اسلام کے بڑے بڑے بادشاہ السلام علیکم میں کوئی اپنی کسر شان نہیں سمجھتے تھے مگر یہ لوگ تو بادشاہ بھی نہیں ہیں۔ پھر بھی بے جا تکبر نے اُن کی نظر میں ایسا پیارا کلمہ جو السلام علیکم ہے جو سلامت رہنے کے لئے ایک دعا ہے حقیر کر کے دکھایا ہے۔ پس دیکھنا چاہیے کہ زمانہ کس قدر بدل گیا ہے کہ ہر ایک شعار اسلام کا تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ تو اس زمانہ کے اکثر مسلمانوں کا اندرونی حال ہے اور جو بیرونی مفاسد پھیل گئے ہیں اُن کا تو شمار کرنا مشکل ہے۔ اسلام وہ مذہب تھا کہ اگر مسلمانوں میں سے ایک آدمی بھی مرتد ہو جاتا تھا تو گویا قیامت برپا ہو جاتی تھی مگر اب اس ملک میں مرتد مسلمان جو عیسائی ہو گئے یا جنہوں نے اور مذہب اختیار کر لیا ہے وہ دو لاکھ سے بھی زیادہ ہیں بلکہ مسلمانوں کی ادنیٰ اور اعلیٰ قوموں میں سے کوئی ایسی قوم نہیں جس میں سے ایک گروہ عیسائی نہ ہو گیا ہو اور وہی لوگ جو ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بغیر درود پڑھنے کے نہیں لیتے تھے اب (۳۱۳ ) مرتد ہونے کے بعد جناب ممدوح کو گندی گالیاں دیتے اور گندی تصانیف شائع کرتے ہیں اور جو کتا ہیں اسلام کے رد میں لکھی گئیں اگر وہ ایک جگہ اکٹھی کی جائیں تو کئی پہاڑوں کے موافق اُن کی ضخامت ہوتی ہے۔ پس اس سے زیادہ کون سی ماتم کی جگہ ہے؟ کہ نہ اسلام کی اندرونی حالت دل کو خوش کر سکتی ہے اور نہ اُس کے بیرونی دشمن ایسے منصف مزاج نظر آتے ہیں کہ جو خدا سے ڈر کر اپنی شرارتوں سے باز آجائیں۔