چشمہٴ معرفت — Page 319
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۱۹ چشمه معرفت پر جاری ہے کہ جو خدا کی طرف سے رسول آتے ہیں اُن کو خدا ایسے امور غیبیہ پر اطلاع دیتا ہے جن کا علم انسانی طاقتوں سے برتر ہوتا ہے پس جب اُن کی وہ پیشگوئیاں بکثرت پوری ہو جاتی ہیں جو دنیا کے حالات کے متعلق ہیں تو وہی پیشگوئیاں ان خبروں کے لئے معیار ہو جاتی ہیں جو برگزیدہ لوگ مبدء اور معاد اور اپنی رسالت کی نسبت دیتے ہیں لیکن افسوس کہ موجودہ وید اس طریق سے بالکل تہی دست اور محروم ہے۔ اور اُس کے ساتھ کوئی تائید اور نصرت حق پائی نہیں جاتی اگر اُس نے مبدء اور معاد کی نسبت کچھ خبر میں دی ہیں تو کیونکر سمجھا جائے کہ وہ کچی خبریں ہیں کیونکہ مبدء اور معاد کی نسبت کوئی قطعی فیصلہ تو عقل کر نہیں سکتی اور اس راہ میں اس قدر عقل حیران اور حواس باختہ ہے کہ آج تک محض عقل کے ذریعہ سے خدا کی شناخت بھی نہ ہو سکی اور ہزاروں انسان جو بڑے بڑے عقلمند کہلاتے تھے اور بڑے بڑے علوم عقلیہ کے موجد تھے آخر کار وہ دہر یہ ہو کر مر گئے اور اُن کو یہ بھی پتہ نہ لگا کہ خدا موجود ہے تو پھر مبدء اور معاد کی نسبت کیونکر صرف عقل کوئی صحیح اور قطعی فیصلہ کر سکتی ہے پس بلا شبہ مبدء اور معاد کی خبریں خواہ وہ زید دے اور خواہ بکر بیان کرے کسی دوسرے کامل ذریعہ سے تصدیق کی محتاج ہیں سودہ ذریعہ خدا کے پاک نبیوں کی وہ پیشگوئیاں ہیں جو دُنیا میں آفتاب کی طرح ظاہر ہو کر اپنا صدق دکھلا دیتی ہیں مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ معظمہ میں اس گمنامی کے زمانہ میں اسلام کے عروج اور شوکت اور ترقی کی خبر دینا جب کہ آپ مکہ معظمہ کی گلیوں اور کوچوں میں محض تنہا پھر تے تھے اور کوئی آثار کامیابی کے نمایاں نہ تھے محض تنہا پھرتے تھے اور آپ کا ایسے (۳۰۵) زمانہ میں اپنے عالمگیر اقبال کی پیشگوئی کرنا جب کہ یہ رائے ظاہر کرنا بھی ہنسی کے لائق سمجھا جا تا تھا کہ ایسا بیکس اور گمنام شخص بھی بادشاہی کے درجہ تک پہنچے گا اور اس کا آسمانی تاج و تخت زمین پر بھی اپنا ز بر دست اور فوق العادت کرشمہ دکھائے گا۔ بلاشبہ ایسی خبریں انسانی طاقت سے باہر ہیں اور پھر وہ خبریں ایسی صفائی سے پوری ہوگئیں کہ جیسے دن چڑھ جاتا ہے پس اُن کا پورا ہونا صاف طور پر یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ بلا شبہ ایک صادق کے لئے خدا کی گواہی ہے ایسا