چشمہٴ معرفت — Page 308
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۰۸ چشمه معرفت سے آخر کار اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے اور وہ قادر جس کی قدرتوں کو غیر قو میں نہیں جانتیں قرآن کی پیروی کرنے والے انسان کو خدا خود دکھا دیتا ہے اور عالم ملکوت کا اُس کو سیر کراتا ہے اور اپنے آنا الموجود ہونے کی آواز سے آپ اپنی ہستی کی اُس کو خبر دیتا ہے مگر وید میں یہ ہنر نہیں ہے ہر گز نہیں ہے اور وید اُس بوسیدہ گٹھری کی مانند ہے جس کا مالک مر جائے اور یا جس کی نسبت پتہ نہ لگے کہ یہ کس کی گٹھری ہے۔ جس پر میشر کی طرف وید بلاتا ہے اُس کا زندہ ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ وید اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں کرتا کہ اُس کا پر میشر موجود بھی ہے اور وید کی گمراہ کنندہ تعلیم نے اس بات میں بھی رخنہ ڈال دیا ہے کہ مصنوعات سے صانع کا پتہ لگایا جائے کیونکہ اس کی تعلیم کی رو سے ارواح اور پر مانو یعنی ذرات سب قدیم اور غیر مخلوق ہیں ۔ پس غیر مخلوق کے ذریعہ سے صانع کا کیونکر پتہ لگے ایسا ہی وید کلام الہی کا دروازہ بند کرتا ہے اور خدا کے تازہ نشانوں کا منکر ہے اور وید کی رو سے پر میشر اپنے خاص بندوں کی تائید کے لئے کوئی ایسا نشان ظاہر نہیں کر سکتا کہ جو معمولی انسانوں کے علم اور تجربہ سے بڑھ کر ہو پس اگر وید کی نسبت بہت ہی حسن ظن کیا جائے تو اس قدر کہیں گے کہ وہ صرف معمولی سمجھ کے انسانوں کی طرح خدا کے وجود کا اقرار کرتا ہے اور خدا کی ہستی پر کوئی یقینی دلیل پیش نہیں کرتا۔ غرض وید وہ معرفت عطا نہیں کر سکتا جو تازہ طور پر خدا کی طرف سے آتی ہے اور انسان کوز مین سے اٹھا کر آسمان تک پہنچا دیتی ہے مگر ہمارا مشاہدہ اور تجربہ اور اُن سب کا جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں اس بات کا گواہ ہے کہ قرآن شریف اپنی روحانی خاصیت اور اپنی ذاتی روشنی سے اپنے بچے پیرو کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اُس کے دل کو منور کرتا ہے اور پھر بڑے بڑے نشان دکھلا کر خدا سے ایسے تعلقات مستحکم بخش دیتا ہے کہ وہ ایسی تلوار سے بھی ٹوٹ نہیں سکتے (۲۹۵ جونکٹر ٹکڑہ کرنا چاہتی ہے۔ وہ دل کی آنکھ کھولتا ہے اور گناہ کے گندے چشمہ کو بند کرتا ہے اور خدا کے لذیذ مکالمہ مخاطبہ سے شرف بخشا ہے اور علوم غیب عطا فرماتا ہے اور دعا قبول کرنے