چشمہٴ معرفت — Page 307
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۰۷ چشمه معرفت وہ نا پاک جذبات کہ جو مرگی کی طرح بار بار پڑتے ہیں اور پر ہیز گاری کے ہوش وحواس کو کھو دیتے ہیں وہ صرف اپنے ہی خود تراشیدہ پر میشر کے تصور سے دور ہو سکتے ہیں یا صرف اپنے ہی تجویز کردہ خیالات سے دب سکتے ہیں اور یا کسی ایسے کفارہ سے رک سکتے ہیں جس کا دکھ اپنے نفس کو چھوا بھی نہیں ؟ ہرگز نہیں یہ بات معمولی نہیں بلکہ سب باتوں سے بڑھ کر عقلمند کے نزدیک غور کرنے کے لائق یہی بات ہے کہ وہ تباہی جو اس بیبا کی اور بے تعلقی کی وجہ سے پیش آنے والی ہے جس کی اصلی جڑھ گناہ اور معصیت ہے اُس سے کیونکر محفوظ رہے ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ انسان یقینی لذات کو محض ظنی خیالات سے چھوڑ نہیں سکتا۔ ہاں ایک یقین دوسرے یقینی امر سے دست بردار کر سکتا ہے مثلا ایک بن کے متعلق ایک یقین ہے کہ اس جگہ سے کئی ہرن ہم بآسانی پکڑ سکتے ہیں اور ہم اس یقین کی تحریک پر قدم اُٹھانے کے لئے مستعد ہیں مگر جب یہ دوسرا یقین ہو جائے گا کہ وہاں پچاس شیر بہر بھی موجود ہیں اور ہزار ہا خونخوارا اثر رہا بھی ہیں جو منہ کھولے بیٹھے ہیں تب ہم اس ارادہ سے دستکش ہو جائیں گے اسی طرح بغیر اس درجہ یقین کے گناہ بھی دور نہیں ہوسکتا۔ لو ہالو ہے سے ہی ٹوٹتا ہے۔ خدا کی عظمت اور ہیبت کا وہ یقین چاہیے جو غفلت کے پردوں کو پاش پاش کر دے اور بدن پر ایک لرزہ ڈال دے اور موت کو قریب کر کے دکھلا دے اور ایسا خوف دل پر غالب کرے جس سے تمام تارو پود نفس امارہ کے ٹوٹ جائیں اور انسان ایک غیبی ہاتھ سے خدا کی طرف کھینچا جائے اور اُس کا دل اس یقین سے بھر جائے کہ در حقیقت خدا موجود ہے جو بے باک مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتا۔ پس ایک حقیقی پاکیزگی کا طالب ایسی کتاب کو کیا کرے جس کے ذریعہ سے یہ ضرورت رفع نہ ہو سکے؟ اس لئے میں ہر ایک پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ وہ کتاب جو ان ضرورتوں کو (۲۹۴ پورا کرتی ہے وہ قرآن شریف ہے اُس کے ذریعہ سے خدا کی طرف انسان کو ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے اور دنیا کی محبت سرد ہو جاتی ہے اور وہ خدا جو نہایت نہاں در نہاں ہے اُس کی پیروی