چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 8

چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ سن کر وہ تو ہین اور تکذیب سے باز آجاتے مگر دوسرے دن جو اُن کا مضمون تھا اُس میں اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر تو ہین کی کہ سارا مضمون گالیوں سے بھرا ہوا تھا۔ اگر میری طرف سے اپنی جماعت کے لئے صبر کی نصیحت نہ ہوتی اور اگر میں پہلے سے اپنی جماعت کو اس طور سے تیار نہ کرتا کہ وہ ہمیشہ بدگوئی کے مقابل پر صبر کریں تو وہ جلسہ کا میدان خون سے بھر جاتا مگر یہ صبر کی تعلیم تھی کہ اُس نے ان کے جوشوں کو روک لیا۔ آریوں نے اُن معزز لوگوں کے منہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور اسلام کی سخت تو مین کی لیکن وہ سب معزز مسلمان چپ رہے ۔ وہ سخت طور پر دُکھ دیئے گئے مگر انہوں نے دم نہ مارا۔ صرف اتنا کیا کہ آریوں کے مضمون کے نوٹ بڑی احتیاط سے لکھ کر لے آئے اور میں نے دیکھا کہ ان کو آریوں کے مضمون سے بڑا صدمہ پہنچا۔ خاص کر اس وجہ سے کہ گھر پر بلا کر گالیاں دی گئیں ۔ اگر اپنے طور پر کوئی کتاب شائع کرتے تو اور بات تھی ۔ اُن کے دل پاش پاش ہو گئے اور ان کو جھوٹ بول کر دھو کہ دیا گیا نہ معلوم یہ آریہ لوگ کس فطرت کے انسان ہیں۔ ہر ایک شخص دوسرے کی حالت کو اپنے پر قیاس کر سکتا ہے۔ کیا وہ تو ہین جو انہوں نے مسلمانوں کو گھر پر بلا کر اسلام کی کی ۔ کیا وہ بد زبانی جو انہوں نے آنحضرت صلعم کی بالمواجہ کی وہ نہیں سمجھ سکتے تھے کہ ہم نے کیا کیا۔ اگر ہم اپنے مضمون میں جو اُن کے جلسہ میں سنایا گیا یہی گالیاں اُن کے رشیوں کو دیتے جن کو بقول ان کے پرمیشر کی طرف سے دید ملا تھا اور یا وید کی نسبت تو ہین سے پیش آتے تو کیا وہ ہمارے اس مضمون سے خوش ہوتے ؟ یقیناً سمجھو کہ اُس انسان سے زیادہ تر خبیث اور نا پاک طبع کوئی نہیں ہوتا کہ جو مہمانوں کو گھر پر بلاوے اور پھر فیس کے طور پر بہت سا روپیہ بھی وصول کرے اور آخر گالیاں دے کر اور دل دُکھا کر رخصت کرے۔ بعض نے آریوں میں سے مضمون سنا چکنے کے بعد یہ بھی کہا کہ بیشک یہ مضمون جو آریوں کی طرف سے سنایا گیا ہے یہ گندہ ہے اور اس میں تو ہین اور گالیاں ہیں مگر اس کی ہمیں اطلاع نہیں تھی مگر کوئی عظمند اس عذر کو باور نہیں کرے گا کہ یہ گندہ مضمون بغیر مشورہ ان معزز ممبروں کے سنایا گیا تھا۔ غرض وہ نوٹ جو بڑی احتیاط سے لکھے گئے تھے انہیں کی بنا پر یہ رسالہ لکھا گیا ہے جس میں آریوں کے اعتراضات کا جواب ہے اگر چہ اُن کا رسالہ بھی مجھے پہنچ گیا ہے مگر جن گندی باتوں کو ہزار ہا لوگوں نے سنا تھا اس کا جواب اس رسالہ میں دیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ انہوں نے اپنے مطبوعہ رسالہ میں کمی بیشی کی ہو۔ اس کو خود ناظرین پڑھ لیں گے ۔ میں نے یہ رسالہ دو غرض سے لکھا ہے ۔ (۱) ایک یہ کہ تا اُن اعتراضوں کا جواب پبلک کو معلوم ہو جائے (۲) دوسری یہ کہ تا مسلمانوں کے دلوں میں جو آر یہ لوگوں کی سخت گوئی کی وجہ سے ایک جوش ہے وہ جوش جواب تر کی بنتر کی سن کر کم ہو جائے اور شائد آریہ لوگ آئندہ شرارتوں سے باز آجائیں۔ والسلام علی من اتبع الهدی۔ الراقم میرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود ۵ارگی ۱۹۰۸ء مطابق ۱۴ ربیع الثانی ۱۳۲۶ هجری موافق ۱۵ر جیسا کو سمت ۱۹۶۵ بکرمی