چشمہٴ معرفت — Page 271
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۷۱ چشمه معرفت اختیار کرنا اس پر ایک دلیل بھی ہے جس سے انکار نہیں ہو سکتا چونکہ وید میں کوئی ذاتی روشنی نہیں ہے اور نہ کوئی ذاتی معجزانہ طاقت ہے اور صرف ایسی باتیں ہیں جو دوسری کتابوں سے نقل ہوسکتی ہیں اس لئے وید کا اس الزام سے بری ہونا مشکل ہے خاص کر ہر ایک کہہ سکتا ہے کہ وید میں اگنی کی پوجا فارس کے گبروں سے لی گئی ہے اسی طرح رگوید کی بہت سی تعلیمیں ژوند کی تعلیم کی سرقہ معلوم ہوتی ہیں لیکن قرآن شریف تو بجائے خود ایک عظیم الشان معجزہ ہے اور نہ صرف معجزانہ بلاغت و فصاحت رکھتا ہے بلکہ منجزات اور پیشگوئیوں سے بھرا ہوا ہے اور جن قومی دلائل سے وہ خدا تعالیٰ کے وجود کا ثبوت دیتا ہے وہ ثبوت نہ توریت کی رو سے مل سکتا ہے نہ انجیل کی رو سے حاصل ہو سکتا ہے اور جو کچھ عالم معاد کی نسبت قرآن شریف نے بیان کیا ہے وہ معارف و حقائق نہ توریت میں پائے جاتے ہیں نہ انجیل میں نہ کسی اور کتاب میں ۔ اور جس قدر قرآن شریف میں قصے ہیں وہ بھی درحقیقت قصے نہیں بلکہ وہ پیشگوئیاں ہیں جو قصوں کے رنگ میں لکھی گئی ہیں ہاں وہ توریت میں تو ضرور صرف قصے پائے جاتے ہیں مگر قرآن شریف نے ہر ایک قصہ کو رسول کریم کے لئے اور اسلام کے لئے ایک پیشگوئی قرار دے دیا ہے اور یہ قصوں کی پیشگوئیاں بھی کمال صفائی سے پوری ہوئی ہیں ۔ غرض قرآن شریف معارف و حقائق کا ایک دریا ہے اور پیشگوئیوں کا ایک سمندر ہے ۔ اور ممکن نہیں کہ کوئی انسان بجز ذریعہ قرآن شریف کے پورے طور پر خدا تعالیٰ پر یقین لا سکے کیونکہ یہ خاصیت خاص طور پر قرآن شریف میں ہی ہے کہ اُس کی کامل پیروی سے وہ پر دے جو خدا میں اور انسان میں حائل ہیں سب دور ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک مذہب والا محض حاشیہ قرآن شریف کی معجزانہ تاثیرات سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کی کامل پیروی کرنے والے درجہ قبولیت کا پاتے ہیں اور ان کی دعائیں قبول ہو کر خدا تعالیٰ اپنی کلام لذیذ اور پر رعب کے ذریعہ سے ان کو اطلاع دیتا ہے اور خاص طور پر دشمنوں کے مقابل پر ان کی مدد کرتا ہے اور تائید کے طور پر اپنے غیب خاص پر ان کو مطلع فرماتا ہے۔ منہ