چشمہٴ معرفت — Page 7
روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت میں نے ان کو کہا بھی کہ عادت کا بدلنا مشکل ہے اور تجربہ ہو چکا ہے کہ اُن کی قلموں سے بجز گند کے اور کچھ نہیں نکل سکتا اور وہ ضرور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے مضمون میں تو ہین کریں گے اور قرآن شریف کا ذکر تکذیب اور ہتک کے الفاظ سے کریں گے مگر ڈاکٹر صاحب موصوف مکار آریوں کے ایسے دھو کہ میں آچکے تھے کہ وہ بار بار یہی کہتے تھے کہ وہ زمانہ گذر گیا اور اب میں دیکھتا ہوں کہ اُن کی کلام میں بڑی تہذیب اور شرافت پائی جاتی ہے اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ بڑی تہذیب سے یہ جلسہ ہوگا ۔ دراصل میں تو نہ آریوں کے ملمع دار اشتہار پر اعتماد کر سکتا تھا اور نہ ان کے انکساری کے خطوط مجھے یہ تسلی دے سکتے تھے کہ وہ شرافت اور تہذیب سے مضمون سنائیں گے لیکن سادہ طبع ڈاکٹر مرزا يعقوب بیگ صاحب کے بار بار کے بیان سے میں دھو کہ میں آگیا۔ بہر حال میں نے خطوط کے ذریعہ سے کئی سوا اپنے مرید کو اطلاع دے دی کہ وہ آریہ صاحبوں کے جلسہ پر حاضر ہوں اور اُن کو تسلی دی کہ آریہ صاحبان بڑی شرافت اور تہذیب سے مضمون سنائیں گے چنانچہ تاریخ مقررہ پر کئی سو معزز میری جماعت کے دور دراز ملکوں سے ہزار ہا روپیہ خرچ کر کے اُس جلسہ میں شامل ہوئے اور فی کس کے حساب سے جلسہ کی مقررہ فیس بھی آریوں کو دی اور بہت سے روپیہ کے ساتھ اُن کا کیسہ پُر کر دیا۔ اور ہماری طرف سے جو مضمون پڑھا گیا وہ اس کتاب کے ساتھ شامل ہے۔ اور پڑھنے والوں کو معلوم ہوگا کہ وہ کس تہذیب سے لکھا گیا تھا اور عجیب تریہ بات ہے کہ جب میں مضمون ختم کر چکا تھا تو ساتھ ہی مجھ کو یہ الہام خدا کی طرف سے ہوا تھا انهم ما صنعوا هو كيد ساحر۔ ولا يفلح الساحر حيث اتى۔ انت منى بمنزلة النجم الثاقب ۔ ترجمہ آریہ لوگوں نے جو یہ جلسہ تجویز کیا ہے یہ مکار لوگوں کی طرح ایک مکر ہے اور اس کے نیچے ایک شرارت اور بد نیتی مخفی ہے مگر فریب کرنے والا میرے ہاتھ سے کہاں بھاگے گا؟ جہاں جائے گا میں اُس کو پکڑوں گا اور میرے ہاتھ سے چھٹکارا نہیں پائے گا۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ وہ ستارہ جو شیطان پر گرتا ہے۔ یہ وہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی ہے جو اُس مضمون کے ساتھ ہی چھاپ کر اس مذہبی جلسہ میں سنائی گئی تھی ۔ اگر آریوں کے دلوں میں کچھ خدا کا خوف ہوتا اور کچھ شرافت ہوتی تو اس الہام الہی کو دیکھ