چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 264

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۶۴ چشمه معرفت ناکام رہے تو مارے غصہ کے دیوانہ ہو گئے اور ہر طرف اُن کی تلاش کرنے لگے انہوں نے یہ (۲۵۳) اشتہار دے دیا کہ جو شخص محمد صاحب کا سرکاٹ کر لائے گا اُس کو سو اونٹ انعام دیا جائے گا۔ چاروں طرف سے اُن کی جان کے پیاسے تلاش میں پھرتے تھے ۔ ایک دفعہ دشمن اس غار کے منہ تک بھی پہنچ گئے ابوبکر کا دل لوگوں کے پاؤں کی آہٹ سے بہت گھبرایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف دو آدمی ہیں اب ضرور مارے جائیں گے مگر محمد صاحب نے اُن کو تسلی دی اور کہا نہیں ہم دو نہیں ہیں بلکہ تین ہیں اور تیسرا ہمارے ساتھ وہ ہے جو سب سے زیادہ زور آور اور صاحب طاقت ہے۔ حقیقت میں وہ تیسرا اُن کے ساتھ تھا ہو۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ قرآن بائبل کی نقل ہے اس سے ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی بیبا کی اور دروغ گوئی میں کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے دنیا میں کوئی شخص اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ قرآن شریف تئیس برس برابر یہود اور نصاریٰ کے روبرو اتر تار با مگر کسی نے یہ اعتراض نہ کیا کہ قرآن شریف بائبل کی نقل ہے اور خود ظاہر ہے کہ بقیہ حاشیہ: آپ صادق تھے اور خدا آپ کے ساتھ تھا اور یہ قول پر ہمو صاحب کا کہ جب گھر کا قتل کے لئے محاصرہ کیا گیا تو کسی جاں نثار خادم نے آپ کو اطلاع دے دی تھی یہ قول صحیح نہیں ہے بلکہ وہ خدا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تھا اس نے خود اطلاع دی تھی ۔ چونکہ بر امھ مذہب اس معرفت کی منزل تک نہیں پہنچا کہ خدا کے نبیوں کو خدا کی طرف سے وحی ہوا کرتی ہے۔ لہذا انہوں نے ایسا ہی لکھ دیا۔ من المؤلف حاشیہ ۔ یہ خوب سوچ لینا چاہیے کہ کس قدر ظالم طبع کافروں کی شرارت بڑھ گئی تھی اور کیسے وہ ایک معصوم بے گناہ کے خون کے پیاسے ہو گئے تھے ۔ یہ واقعہ پر ہمو صاحب کی کتاب سوانح عمری کے صفحہ ۵۷ میں لکھا ہے جس کو ہم نے اس جگہ انہیں کی کتاب کی عبارت میں نقل کر دیا ہے اور یہ تحریر صرف انہیں کے ہاتھ سے نہیں نکلی بلکہ ان سے پہلے بہت سے فاضل انگریزوں نے جو پادری نہ تھے ان تمام حالات کو بہ تفصیل بیان کیا ہے کہ کیسی تیرہ برس تک اہل اسلام کے مردوں اور عورتوں نے کافروں کے ہاتھ سے تکلیفیں اٹھا ئیں اور بہت سے لوگ بھیڑوں بکریوں کی طرح ذبح کئے گئے افسوس کہ اس زمانہ کے ظالم طبع دشمن اسلام ان واقعات کو چھپانا چاہتے ہیں۔ من مؤلف هذا الكتاب