چشمہٴ معرفت — Page 6
چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ قرآن شریف ( نعوذ باللہ ) جھوٹا ہے اور اسی بناء پر میں مرزاغلام احمد قادیانی سے مباہلہ کرتا ہوں پس اگر میں اس عقیدہ میں سچا نہیں ہوں تو اے پر میشر ! میری مراد کے مخالف فیصلہ کر اور جو شخص تیری نظر میں جھوٹا ہے بچے کی زندگی میں ہی اُس کو سزا دے اور اپنے قطعی فیصلہ سے سچائی کو ظاہر فرما۔ چنانچہ خدا نے اس مباہلہ کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ لیکھرام کو میری زندگی میں ہی ہلاک کر دیا۔ اور اب اُس کی موت پر بارھواں سال گزر رہا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ آریوں نے خدا تعالیٰ کے اس صریح اور کھلے کھلے نشان سے کچھ فائدہ نہیں اُٹھایا بلکہ ان کی شوخی پہلے سے بھی زیادہ ہو گئی۔ بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ دسمبر ۱۹۰۷ ء کے مہینہ میں ان کی طرف سے مذہبی جلسہ کے لئے ایک اشتہار نکلا اور وہ اشتہار خصوصیت سے میری طرف بھیجا گیا اور میری جماعت کے بہت سے معزز لوگوں میں تقسیم کیا گیا جس کا حاصل مطلب یہ تھا کہ ایک مذہبی جلسہ ہو گا آپ صاحب تشریف لائیں اور اپنے مذہب کی تائید میں لکھ کر مضمون لاویں۔ مضامین میں یہ شرط ہے کہ کسی فریق کا کوئی مضمون خلاف تہذیب نہ ہو اور علاوہ اس کے میری طرف کئی انکساری کے خط لکھے کہ ہم لوگ آپ کے درشن کے بھی مشتاق ہیں۔ چونکہ مومن سادگی سے خالی نہیں ہوتا میں اس اشتہار اور ان خطوط کو پڑھ کر بہت خوش ہوا اور دل میں سوچا کہ آریہ صاحبوں نے آخر کار زمانہ کی ہوا دیکھ کر اپنی بد کلامی اور بد تہذ یہی سے تو بہ کر لی ہے اور یہ بھی خیال آیا کہ چونکہ بعض آریوں کی بعض حرکات کی وجہ سے گورنمنٹ کو اس فرقہ کی نسبت کو کچھ شکوک و شبہات پیدا ہو گئے تھے اس لئے غالبا یہ جلسہ ان شکوک کے ازالہ کے لئے ہے تا گورنمنٹ کو معلوم ہو کہ اب یہ آریہ قوم وہ آریہ نہیں ہیں جو پہلے تھے بلکہ انہوں نے اس گوشمالی کے بعد بڑی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لی ہے اور تہذیب کو اپنا پیرا یہ بنا لیا ہے اور وہ اس جلسہ سے گورنمنٹ عالیہ کو اپنی تہذیب کا نمونہ دکھانا چاہتے ہیں ۔ سو اس خیال سے نہ صرف مجھے خوشی ہوئی بلکہ ہر ایک فرد میری جماعت کا بہت خوش تھا اور میرے عزیز ڈاکٹر میرزا یعقوب بیگ صاحب اسٹنٹ سرجن لا ہور تو گویا قسم کھانے کو اس بات کے لئے تیار تھے کہ یہ جلسہ بڑی تہذیب سے ہوگا اور انہوں نے کئی مرتبہ مجھے کہا کہ آپ آریوں کی پہلی حالت پر خیال نہ کریں۔ اب تو ان کے اندر بڑی تبدیلی معلوم ہوتی ہے اور سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” کو “ زائد ہے۔(ناشر)