چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 5

روحانی خزائن جلد ۲۳ وَلَمَن ♡ چشمه معرفت انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِم مِّنْ سَبِيل بعد بدلہ لے اُس پر کوئی الزام نہیں مشخص مظلوم ہونے ۔ جو باعث تاليف كتاب هذا ۔ ۲۸ میری طرف سے اس کتاب کے ہر ایک پڑھنے والے کو خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اس کتاب کے پڑھنے سے پہلے اس مضمون کو پڑھ لے اگر چہ میں نے اپنی کئی کتابوں میں آریہ صاحبوں کے اُن تمام حملوں کا جواب دیا ہے جو اسلام پر وہ کیا کرتے ہیں چنانچہ میں نے اُس زمانہ میں بھی اُن کے شبہات کے رد میں اپنی کتاب براہین احمدیہ کو شائع کیا تھا جب کہ پنجاب میں آریہ مذہب کی ابھی تخم ریزی ہوئی تھی اور براہین احمدیہ کی تالیف کا یہ باعث ہوا تھا کہ پنڈت دیانند نے سر نکالتے ہی اسلام پر زبان کھولی اور اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بے ادبی کی اور قرآن شریف کا بہت توہین کے ساتھ ذکر کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جس پر آج سے قریباً اٹھائیس برس گزر گئے ۔ امید تھی کہ آریہ لوگ میری اُس کتاب کے بعد اپنی زبان بند کر لیتے لیکن افسوس ! کہ آریہ صاحبوں کے ایسے دل ہیں کہ وہ اپنی عادت سے باز نہ آئے بلکہ دن بدن بڑھتے گئے اور جب اُن کی بد زبانی انتہا تک پہنچ گئی تو اُن میں ایک شخص لیکھر ام نام پیدا ہوا اور لیکھرام نے صرف بد زبانی پر بس نہ کی بلکہ اپنی موت کے لئے مجھ سے پیشگوئی چاہی چنانچہ میں نے اس کے بار بار کے اصرار کی وجہ سے خدائے عز و جل سے اطلاع پا کر اُس کو خبر کر دی کہ وہ چھ برس کے اندر مر جائے گا مگر اُس نے اس پر کفایت نہ کر کے مجھ سے تحریری مباہلہ کیا اور ایسے وقت میں اُس نے مباہلہ کیا جب کہ خدا کے نزدیک اس کی زندگی کا خاتمہ ہو چکا تھا ۔ اُس نے اپنے مباہلہ میں جو اس کی کتاب خبط احمد یہ میں درج ہو کر اس کے مرنے سے ایک مدت پہلے شائع ہو گیا تھا۔ اس مضمون کی دعا کی جس کا خلاصہ مطلب یہ تھا کہ اے پر میشر ! میں جانتا ہوں کہ چاروں وید سچے ہیں اور ب) الشورى : ۴۲