چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 240

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۴۰ چشمه معرفت سے لکھتا ہے کہ نعوذ باللہ اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی تو نہیں تھے مگر خدا نے اس ملک کے بدچلن یہودیوں اور عیسائیوں کو سزا دینے کے لئے آپ کو غلبہ بخشا اور خدا نے بطور تنبیہ کے یہ قرین مصلحت قرار دیا کہ اس طرح پر اُن بد چلن فرقوں کو آئندہ بدچلنیوں اور بداعمالیوں سے روکا جاوے۔ یہ وہ گواہی ہے جو ایک سخت دشمن اسلام کا یعنی پادری فنڈل اپنی کتاب میزان الحق میں دیتا ہے اور باوجو د سخت متعصب ہونے کے اس قدر سچ اُس کے منہ سے نکل گیا کہ اس وقت کے عیسائی اور یہودی سخت بد چلن اور بداعمال اور جرائم پیشہ تھے ۔ پس ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ امن عامہ قائم کرنے کے لئے ایسے جرائم پیشہ لوگوں کا تدارک ضروری تھا (۲۳۱) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف پیغمبری کا عہدہ رکھتے تھے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بادشاہ با اختیار کی طرح ملکی مصالح قائم رکھنے کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے تھے اس صورت میں آپ کا فرض تھا کہ بحیثیت ایک بادشاہ اور والی ملک کے شریروں اور بد معاشوں کا قرار واقعی بندو بست کریں اور مظلوموں کو جو اُن کی شرارتوں سے تباہ ہو گئے تھے اُن کے پنجہ سے چھڑاویں پس یوں سمجھنا چاہیے کہ خدا تعالی کی طرف سے آپ کے دو عہدے تھے ایک عہدہ رسالت کہ جو کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ملتا تھا وہ لوگوں کو پہنچا دیتے تھے اور دوسرا عہدہ بادشاہت اور خلافت کا ۔ جس عہدہ کی رو سے وہ ہر ایک مفسد اور محل امن کو سزا دے کر امن عامہ کو ملک میں قائم کر دیتے تھے اور ملک عرب کا اُن دنوں میں یہ حال تھا کہ ایک طرف تو خود عرب کے لوگ اکثر لٹیرے اور قزاق اور طرح طرح کے جرائم کرنے والے تھے اور دوسری طرف جو اہل کتاب کہلاتے تھے وہ بھی سخت بد چلن تھے اور ناجائز طریقوں سے لوگوں کا مال کھاتے تھے اگر عرب رات کو لوٹتے تھے تو یہ لوگ دن کو ہی غریب لوگوں کی گردن پر چھری پھیرتے تھے پس جبکہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملک عرب کی بادشاہی دی تو بلا شبہ آنجناب کا یہ فرض تھا کہ بد معاشوں اور مجرموں اور چوروں اور ڈاکوؤں اور مفسدوں کا بندوبست کریں اور جو لوگ جرائم سے باز نہیں آتے اُن کو سزا دیں