چشمہٴ معرفت — Page 239
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۳۹ چشمه معرفت ذکر ہے کہ جو کھلے کھلے طور پر جرائم پیشہ ہو گئے تھے اور عیسائیت اور یہودیت صرف نام کے لئے تھی ورنہ اُن کو خدا پر بھی ایمان نہیں رہا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَتَری كَثِيرًا مِنْهُمْ يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ لَوْلَا يَنْهُهُمُ الزَّيْتُونَ وَالْأَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الإِثْمَ وَاللهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ - قُلْ يَاهْلَ الْكِتُبِ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا الثورية وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَّبِّكُمْ ( ترجمہ ) اور اکثر اہل کتاب کو تو دیکھے گا کہ گناہ کے کاموں کی طرف دوڑتے ہیں اور حرام کھاتے ہیں کیا ہی بُرے یہ کام اور بداعمالیاں ہیں کہ یہ لوگ کر رہے ہیں اُن کے مشائخ او علماء کیوں ان بُرے کاموں سے اُن کو ۲۳۰ منع نہیں کرتے اور دیکھتے ہیں کہ وہ جھوٹ بولتے اور جھوٹی گواہیاں دیتے ہیں اور حرام کھاتے ہیں پھر بھی چپ رہتے ہیں ۔ پس یہ اُن کے علماء بھی بُرے کام کر رہے ہیں کہ خاموش رہ کر اُن کی بدی میں آپ بھی شریک ہیں۔ اے پیغمبر! تو یہود اور نصاری کو کہہ دے کہ جب تک تم توریت اور انجیل کے احکام پر نہ چلو اور ایسا ہی اُن دوسری تمام کتابوں پر قائم نہ ہو جاؤ جو خدا کی طرف سے تمہیں دی گئی ہیں تب تک تمہارا کچھ بھی مذہب نہیں محض لا مذہب ہو کر اپنے نفسوں کی پیروی کر رہے ہو پس ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ عرب کے یہود اور عیسائی ایسے بگڑ گئے تھے اور اس درجہ پر وہ بدچلن ہو گئے تھے کہ جو کچھ خدا نے اُن کی کتابوں میں حرام کیا تھا یعنی یہ کہ چوری نہ کریں لوگوں کا ناحق مال نہ کھاویں۔ ناحق کا خون نہ کریں۔ جھوٹی گواہی نہ دیں۔ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ یہ تمام نا جائز کام ایسی دلی رغبت سے کرتے تھے کہ گویا اُن بُرے کاموں کو انہوں نے اپنا مذہب قرار دے دیا تھا جیسا کہ پادری فنڈل صاحب نے بھی اپنی کتاب میزان الحق میں جو اس ملک میں مدت تین سال سے شائع ہو چکی ہے اس بات کی تصدیق کی ہے که در حقیقت ملک عرب میں جو عیسائی اور یہودی تھے وہ سخت بدچلن ہو گئے تھے اور ملک کے لئے اُن کا وجود خطر ناک تھا اور اُن کے مفاسد حد سے بڑھ گئے تھے بعد اس کے وہ پادری اپنی شرارت المائدة : ۶۴۶۳ المائدة : ٢٩