چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 235

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۳۵ چشمه معرفت تھے تا کہ تجھے گرفتار کر رکھیں یا تجھے مارڈالیں اور یا تجھے جلا وطن کر دیں اور حال یہ تھا کہ کا فرتو قتل کے لئے اپنا داؤ کر رہے تھے اور خدا اُن کو مغلوب کرنے کے لئے اپنا داؤ کر رہا تھا اور خدا سب داؤ کرنے والوں سے بہتر داؤ کرنے والا ہے جس کے داؤ میں سراسر مخلوق کی بھلائی ہے۔ اسی طرح جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا تو تمام کفار گرفتار کر کے آپ کے سامنے پیش کئے گئے تو کفار نے خود اپنے منہ سے اس وقت اقرار کیا کہ ہم بباعث اپنے سخت جرائم کے واجب القتل ہیں اور اپنے تئیں آپ کے رحم کے سپر د کرتے ہیں تو آپ نے سب کو بخش دیا اور اس موقع پر معافی کے لئے اسلام کی بھی شرط نہ لگائی لیکن وہ لوگ یہ اخلاق کریمانہ دیکھ کر خود بخود مسلمان ہو گئے اور تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ مکہ معظمہ میں کئی مرتبہ کفار قریش آنحضرت کے اقدام قتل کے مرتکب ہوئے تھے اور ہر ایک مرتبہ میں ناکام رہے پس اُن کے یہ جرائم تھے جن کی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں واجب القتل تھے اور اُن کو یہ رعایت دی گئی تھی کہ اگر وہ بت پرستی سے باز آجائیں اور خدا کی کتاب کو قبول کر لیں تو سزائے موت سے اُن کو معافی دی جائے گی۔ ایسا ہی اُن جرائم میں عرب کے تمام بت پرست اُن کے مددگار اور معاون تھے اور اُن کے ہاتھ سے صدہا مومن بے گناہ قتل ہو چکے تھے سوائن خون ریزیوں کے جرائم کے پاداش میں اُن پر قتل کا حکم تھا پر خدا وند کریم نے جو سزا دینے میں دھیما ہے اُن سے نرمی کی اور فرمایا کہ اگر اطاعت کر لیں اور بغاوت چھوڑ دیں تو اُن کے گناہ معاف کئے جائیں گے سو اول اول تو بہتوں نے اُن میں سے اطاعت اختیار نہ کی لیکن جب اسلام کا ستارہ چمکا اور خدا کی نصرت اور مدد روز روشن کی طرح ظاہر ہو گئی تب ان لوگوں نے بھی اطاعت اختیار کی چنانچہ خدا تعالیٰ اُن کے حق میں قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے قَالَتِ الْأَعْرَابُ أَمَنَا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا (۲۲۷) وَلكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَ لَمَا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ الجز نمبر ٢٦ سورة الحجرات (ترجمه) عرب کے دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ان کو کہہ دے کہ تم ایمان نہیں لائے ایمان تو اور ہی چیز ہے سو تم یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کے لئے گردن ڈال دی اور الحجرات : ۱۵