چشمہٴ معرفت — Page 234
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۳۴ چشمه معرفت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں پس ان گناہوں کی وجہ سے وہ خدا کی نظر میں واجب القتل ٹھہر چکے تھے اور اُن کا قتل کرنا عین انصاف تھا کیونکہ وہ جرم قتل اور اقدام قتل کے مرتکب ہو چکے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو برابر تیرہ برس اُن میں رہ کر وعظ کرتے رہے اور نیز آسمانی نشان دکھلاتے رہے اس صورت میں خدا کی حجت اُن پر پوری ہو چکی تھی اس وجہ سے خدا نے جو رحیم و کریم ہے اُن کی نسبت یہ حکم دیا تھا کہ وہ اگر چہ اپنے جرائم کی وجہ سے بہر حال قتل کرنے کے لائق ہیں لیکن اگر کوئی اُن میں سے خدا کی کلام کو سن کر اسلام قبول کرے تو یہ قصاص اس کو معاف کیا جاوے ورنہ اپنے گناہوں کی سزا میں جو قتل اور اقدام قتل ہے وہ بھی قتل کئے جائیں گے اب بتلاؤ کہ اس میں کونسا جبر ہے؟ جس حالت میں وہ لوگ جرم قتل اور اقدام قتل کی وجہ سے بہر حال قتل کے لائق تھے اور یہ رعایت قرآن شریف نے اُن کو دی کہ اسلام لانے کی حالت میں وہ قصاص دور ہو سکتا ہے تو اس میں جبر کیا ہوا؟ اور اگر یہ رعایت نہ دی جاتی تو ان کا قتل کرنا بہر حال ضروری تھا کیونکہ وہ قاتل اور اقدام قتل کے مرتکب تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اذن لِلَّذِيْنَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ یعنی ہم اُن لوگوں کو جو نا حق قتل کئے جاتے ہیں اجازت دیتے ہیں کہ اب وہ بھی قاتلوں کا مقابلہ کریں یعنی ایک مدت تک تو مومنوں کو مقابلہ کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور وہ مدت تیرہ برس تھی اور ۲۲۲) جب بہت سے مومن قتل ہو چکے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدام قتل کے بھی کافر لوگ مرتکب ہوئے تب تیرہ برس کے مصائب اٹھانے کے بعد مقابلہ کی اجازت دی گئی اور پھر دوسری آیت یہ ہے وَ إِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُ والِيُثْبِتُوكَ اَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ الله وَاللَّهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ " الجز نمبر 9 سورۃ الانفال ( ترجمہ ) اور اے پیغمبر وہ وقت یاد کر جب کافر لوگ تجھ پر داؤ چلانا چاہتے دیکھو کتاب سوانح عمری حضرت محمد صاحب صفحہ ۲۵ جس کو ایک برہمو صاحب نے انصاف کی راہ سے حال ہی میں تالیف کر کے شائع کیا ہے۔ منہ الحج: ۲۴۰ الانفال: ۳۱