چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 3

چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ آیت کریمہ يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ کا مزہ نہیں چکھا۔ کہاں ہے مولوی غلام دستگیر جس نے اپنی کتاب فیض رحمانی میں میری ہلاکت کے لئے بددعا کی تھی اور مجھے مقابل پر رکھ کر جھوٹے کی موت چاہی تھی ؟ کہاں ہے مولوی چراغ دین جموں والا جس نے الہام کے دعوے سے میری موت کی خبر دی تھی اور مجھ سے مباہلہ کیا تھا۔ کہاں ہے فقیر مرزا جو اپنے مریدوں کی ایک بڑی جماعت رکھتا تھا جس نے بڑے زور شور سے میری موت کی خبر دی تھی اور کہا تھا کہ عرش پر سے خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ شخص مفتری ہے آئندہ رمضان تک میری زندگی میں ہلاک ہو جائے گا لیکن جب رمضان آیا تو پھر آپ ہی طاعون سے ہلاک ہو گیا۔ کہاں ہے سعد اللہ لود بانوی ؟ جس نے مجھ سے مباہلہ کیا تھا اور میری موت کی خبر دی تھی۔ آخر میری زندگی میں ہی طاعون سے ہلاک ہو گیا۔ کہاں ہے مولوی محی الدین لکھو کے والا ؟ جس نے مجھے فرعون قرار دے کر اپنی زندگی میں ہی میری موت کی خبر دی تھی اور میری تباہی کی نسبت کئی اور الہام شائع کئے تھے آخر وہ بھی میری زندگی میں ہی دنیا سے گذر گیا۔ کہاں ہے بابو الہی بخش صاحب مؤلف عصائے موسیٰ اکو نٹنٹ لاہور؟ جس نے اپنے تئیں موسیٰ قرار دے کر مجھے فرعون قرار دیا تھا اور میری نسبت اپنی زندگی میں ہی طاعون سے ہلاک ہونے کی پیشگوئی کی تھی اور میری تباہی کی نسبت اور بھی بہت سی پیشگوئیاں کی تھیں آخر وہ بھی میری زندگی میں ہی اپنی کتاب عصائے موسیٰ پر جھوٹھ اور افترا کا داغ لگا کر طاعون کی موت سے بصد حسرت مرا۔ اور ان تمام لوگوں نے چاہا کہ میں اس آیت کا مصداق ہو جاؤں کہ اِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ " لیکن وہ آپ ہی اس آیت مدوحہ کا مصداق ہوکر ہلاک ہو گئے اور خدا نے اُن کو ہلاک کر کے مجھ کو اس آیت کا مصداق بنا دیا۔ وَ اِنْ يَّك صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ۔ کیا اِن تمام دلائل سے خدا تعالی کی حجت پوری نہیں ہوئی مگر ضرور تھا کہ مخالف لوگ انکار سے پیش آتے کیونکہ پہلے سے یعنی آج سے چھیں برس پہلے براہین احمدیہ میں خدا کی یہ پیشگوئی موجود ہے دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ سو ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خدا اپنے حملوں کو نہیں روکے گا اور نہ ٣،٢١ المومن: ٢٩ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” فتح رحمانی “ ہونا چاہیے۔(ناشر)