چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 225

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۲۵ چشمه معرفت جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدم اور حوا کا رشتہ نہایت قریب تھا مگر چونکہ ہم خدا تعالیٰ کو ہر ایک چیز پر قادر سمجھتے ہیں اس لئے ہم اس امر کو بھی کچھ بعید نہیں سمجھتے کہ حوا آدم کی پہلی سے یا آدم حوا کی پہلی سے پیدا ہو گیا ہو۔ خدا کا کلام اس جگہ نہایت وسیع معنوں پر مشتمل ہے آیت کے معنے وسیع طور پر یہ ہیں کہ ایک سے ہم نے دوسرے کو پیدا کیا۔ اگر کسی کو یہ اعتراض ہو کہ پہلی سے پیدا کرنا قانون قدرت کے خلاف ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ نطفہ سے پیدا ہونا بھی اُس قانون قدرت کے برخلاف ہے جو بموجب اصول آریہ کے پہلے ظہور میں آیا۔ پس جس نے ایک قانون قدرت بدلا کر دوسرا قانون قدرت پیدائش کے لئے مقرر کیا تو پھر کیا اُس کی شان سے کچھ تعجب کی جگہ ہے کہ جس طرح اُس نے بموجب اصول آریہ کے پہلی پیدائش میں کھمبوں کی طرح انسانوں کو پیدا کیا ایسا ہی اس نے ہمو جب اصول اسلام کے پہلی پیدائش میں ایک انسان کی پسلی سے دوسرا انسان پیدا کر دیا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ بیان کیا کہ نوح کے طوفان کے وقت ایسی کشتی میں جو صرف ہیں ہاتھ چوڑی اور تمہیں ہاتھ اونچی تھی تمام دنیا کے چرند پرند کے جوڑے کیوں کر سما گئے اس کے جواب میں صرف اس قدر کہنا کافی ہے کہ قرآن شریف میں اس کشتی کا کوئی مقدار نہیں لکھا کہ اتنی چوڑی اور اتنی لمبی اور اس قدر اونچی تھی اور نہ یہ لکھا ہے کہ وہ تمام دنیا کے لئے عام طوفان تھا بلکہ اُسی ملک میں طوفان تھا جس ملک کے لوگوں کے لئے حضرت نوح بھیجے گئے تھے اور جو کچھ اس بارے میں توریت میں ہے وہ تحریف تبدیل سے خالی نہیں اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں خبر دی ہے کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہو گئی ہیں اس لئے یہ اعتراض محض لغو اور ۲۱۷ سراسر بے اصل ہے۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے ایک یہ اعتراض پیش کیا کہ مریم کیوں کر روح القدس سے حاملہ ہوگئی اور کیوں کر صرف مریم سے یسوع پیدا ہو گیا۔ اس کا یہی جواب ہے کہ اُسی خدا نے