چشمہٴ معرفت — Page 2
روحانی خزائن جلد ۲۳ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفَرِحِينَ - آمین اے ہمارے خدا ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کر دے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ جب سے خدا نے مجھے مسیح موعود اور مہدی معہود کا خطاب دیا ہے میری نسبت جوش اور غضب اُن لوگوں کا جو اپنے تئیں مسلمان قرار دیتے ہیں اور مجھے کا فر کہتے ہیں انتہا تک پہنچ گیا ہے پہلے میں نے صاف صاف ادلۂ کتاب اللہ اور حدیث سے اپنے دعوے کو ثابت کیا مگر قوم نے دانستہ ان دلائل سے منہ پھیر لیا اور پھر میرے خدا نے بہت سے آسمانی نشان میری تائید میں دکھلائے مگر قوم نے اُن سے بھی کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور پھر اُن میں سے کئی لوگ مباہلہ کے لئے اُٹھے اور بعض نے علاوہ مباہلہ کے الہام کا دعویٰ کر کے یہ پیشگوئی کی کہ فلاں سال یا کچھ مدت تک ان کی زندگی میں ہی یہ عاجز ہلاک ہو جائے گا مگر آخر کار وہ میری زندگی میں خود ہلاک ہو گئے مگر نہایت افسوس ہے کہ قوم کی پھر بھی آنکھ نہ کھلی اور اُنہوں نے یہ خیال نہ کیا کہ اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو ہر ایک پہلو سے وہ مغلوب نہ ہوتے ۔ قرآن شریف ان کو جھوٹا ٹھہراتا ہے۔ معراج کی حدیث اور حدیث امامکم منکم ان کو جھوٹا ٹھہراتی ہے ۔ مباہلوں کا انجام ان کو جھوٹا ٹھہراتا ہے پھر اُن کے ہاتھ میں کیا ہے جو خدا کے اس فرستادہ کی دلیری سے تکذیب کر رہے ہیں جو تقریبا چھبیس برس سے اُن کو حق اور راستی کی طرف بلا رہا ہے کیا اب تک اُنہوں نے حاشیہ : بعض کم سمجھ لوگ جو کتاب اللہ اور حدیث نبوی میں تدبر نہیں کرتے وہ میرے مہدی ہونے کو سن کر یہ کہا کرتے ہیں کہ مہدی موعود تو سادات میں سے ہوگا۔ سو یا در ہے کہ باوجود اس قدر جوش مخالفت کے ان کو احادیث نبویہ پر بھی عبور نہیں مہدی کی نسبت احادیث میں چار قول ہیں (۱) ایک یہ کہ مہدی سادات میں سے ہوگا (۲) دوسرے یہ کہ قریش میں سے۔ سادات ہوں یا نہ ہوں (۳) تیسرے یہ حدیث ہے کہ رجل من امتی یعنی مہدی میری اُمت میں سے ایک مرد ہے خواہ کوئی ہو۔ (۴) چوتھے یہ حدیث ہے کہ لا مهدى إلا عیسی یعنی بجر عیسی کے اور کوئی مہدی نہیں ہو گا وہی مہدی ہے جو عیسی کے نام پر آئے گا۔ اس آخری قول کے مصدق وہ اقوال محد ثین ہیں جن میں یہ بیان ہے کہ مہدی کے بارے میں جس قدر احادیث ہیں بجز حدیث عیسی مہدی کے کوئی ان حدیثوں میں سے جرح سے خالی نہیں مگر عیسی کا مہدی ہونا بلکہ سب سے بڑا مہدی ہونا تمام اہل حدیث اور ائمہ اربعہ کے نزدیک بغیر کسی نزاع کے مسلّم ہے۔ پس میں وہی مہدی ہوں جو عیسی بھی کہلاتا ہے اور اس مہدی کے لئے شرط نہیں ہے کہ حسنی یا حسینی یا ہاشمی ہو۔ منہ الاعراف: ۹۰