چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 217

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۱۷ چشمه معرفت اُن زبانوں میں فرق کیا ہوا اور ویدک کی سنسکرت میں کونسی خاص علامت ہے جس سے وہ الیشور کی زبان سمجھی جاوے۔ ہاں چونکہ اب وہ اس زمانہ میں مردہ زبان ہے اور کوئی قوم اس کو بولتی نہیں اس لئے ایک نادان خیال کر سکتا ہے کہ وہ زبان چونکہ انسانی استعمال سے الگ ہے اس لئے وہ ایشور کی زبان ہوگی مگر متروک الاستعمال ہونا یہ امر سنسکرت کرت سے ہی خاص نہیں بلکہ اور کئی زبانیں ہیں جو اول بولی جاتی تھیں اب متروک الاستعمال ہیں تو کیا اس وجہ سے وہ تمام زبانیں ایشور کی زبان بن جائیں گی اور اگر و یدک سنسکرت کسی اور دلیل سے ایشور کی زبان کہلاتی ہے اور ایشور کسی خاص اپنی کچہری میں وہ زبان بولا کرتا ہے تو اس پر کوئی دلیل پیش کرنی چاہیے ورنہ جو کچھ عبری زبانوں اور فارسی زبانوں اور دوسرے ممالک کی زبانوں میں انواع اقسام کے تغیرات آکر بعض زبانیں تو بالکل مردہ ہو گئیں اور بعض میں اس قدر تغیر آئے کہ پہلے الفاظ بہت ہی تھوڑے اُن میں باقی رہ گئے اور نئے الفاظ اور نئے محاورات اُن میں داخل ہو گئے اگر اس قسم کے نمونوں کا شوق ہو تو ہم اس بارے میں ایک بڑی لمبی فہرست پیش کر سکتے ہیں پس اگر کوئی زبان متروک الاستعمال ہونے کی وجہ سے ایشر کی زبان ہو سکتی ہے تو پھر ان تمام دوسری زبانوں نے کیا گناہ کیا ہے جو متروک الاستعمال ہیں کہ اُن کو ایشور کی زبانیں نہ کہا جائے ۔ آریوں کو یہ ماننا پڑتا ہے کہ دوسری زبانیں بھی قدیم ہیں کیونکہ جب کہ یہ دنیا کا سلسلہ قدیم ہے تو کیا وجہ کہ نوع انسان کی آبادی (۲۰۹ کروڑ ہا اربوں سے صرف آریہ ورت تک ہی محدود رہی اور اُن کی ایک ہی زبان رہی۔ اس بات کو تو کوئی عقلمند نہیں مانے گا کیونکہ یہ قانون قدرت کے برخلاف ہے اور جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دو تین سو برس گزرنے تک ایک زبان میں کچھ تغیر پیدا ہو جاتا ہے اور ایسا ہی جب ایک جگہ سے مثلاً سوکوس کے فاصلہ پر آگے نکل جائیں تو صریح زبان کا تغیر محسوس ہوتا ہے تو اس سے صاف ثابت ہے کہ اختلافِ السِنَة ایک قدیمی امر ہے جس پر موجودہ حالت گواہی دے رہی ہے پس ماننا پڑتا ہے کہ جس نے انسان کو بنایا اُسی نے اُن کی زبانوں کو بنایا ہے اور وقتاً فوقتاً وہی اُن