چشمہٴ معرفت — Page 216
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۱۶ چشمه معرفه واقع ہیں ایک متعصب اور جاہل آدمی تو اعتراض کے طور پر جلدی کے ساتھ منہ سے ایک بات نکال لیتا ہے گویا وہ اس کا منہ نہیں ہوتا بلکہ وہ ایسی بے اختیاری کی حالت ہوتی ہے جیسا کہ زحیر کے بیمار کو چپش کے ساتھ بے اختیار دست آجاتا ہے۔ غرض تعصب نہایت سخت بلا ہے اور پھر جب یہی تعصب نادانی اور جہالت کے ساتھ مرکب ہو جاتا ہے تو ایک ایسی زہریلی تا شیر اس میں پیدا ہو جاتی ہے کہ اکثر وہ ایسے انسان کو جو متعصب ہو ہلاک بھی کر دیتی ہے۔ ہندوؤں میں سے ایک شخص یعنی باوا نانک صاحب بے تعصب انسان پیدا ہوئے ہیں چونکہ وہ شخص دل کا پاک تھا اس لئے خدا نے اُس کو دکھا دیا کہ اسلام سچا ہے اُس کے شعروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام پر فدا شدہ ہے ۔ میں نے ڈیرہ ناٹک میں خود جا کر باوا صاحب کے چولا صاحب کو دیکھا ہے۔ انہوں نے اس چولہ میں قرآن شریف کی آیتیں لکھی ہیں اور جابجا صاف اقرار کیا ہے کہ لَا إِله إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ اور ہر ایک موقعہ پر لکھا ہے کہ بجز اسلام کے کوئی مذہب قبول کرنے کے لائق نہیں۔ اور میں نے ملتان میں وہ مسجد دیکھی ہے جہاں باوا صاحب نماز پڑھا کرتے تھے اور اُن کے ہاتھ سے یہ لفظ ملتان کی خانقاہ پر میں نے لکھا ہوا دیکھا ہے کہ یا اللہ ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ باوا صاحب پاک دل ۲۰۸ تھے اور انہوں نے اسلام کی سچائی کے بارے میں بار بار گواہی دی سوکروڑ ہا ہندوؤں میں سے ایک یہی شخص پیدا ہوا جس کو خدا نے آنکھ کا نور بخشا اور دل کو صاف کیا اور اپنی محبت عطا کی مگر افسوس کہ پنڈت دیا نند نے اُن کی شان میں بہت کچھ نا ملائم اور توہین کے الفاظ اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں لکھے ہیں جن کا نقل کرنا بھی میرے نزدیک بے ادبی ہے۔ مضمون پڑھنے والے نے ایک الہامی کتاب کی یہ نشانی پیش کی کہ وہ خاص ایشور کی ہی زبان ہومگر افسوس کہ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ جس حالت میں بموجب اصول آریہ کے نوع انسان قدیم سے ہے تو پھر اس سے لازم آتا ہے کہ اُن کی زبانیں بھی قدیم ہیں تو پھر قدامت کی وجہ سے