چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 215

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۱۵ چشمه معرفت کرنی پڑتی ہے یہی قاعدہ طب رُوحانی میں ہے یعنی خدا کی شریعت میں ایک مریض جب علاج کرانے کے لئے طبیب کے پاس حاضر ہوتا ہے تو اگر وہ حاذق طبیب ہے تو مرض کے تمام درجوں پر ایک ہی دوا نہیں دیتا بلکہ ابتدائی حالت میں کچھ تجویز کرتا ہے اور جب مرض ابتدا سے ترقی کر کے نزائد کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے یعنی زیادہ ہونا شروع کرتی ہے تو اُسی درجہ کے مناسب حال نسخہ کو بدل دیتا ہے اور جب مرض نزائد سے انتہا کے درجہ پر پہنچتی ہے یعنی اُس کا زور و شور کمال تک پہنچ جاتا ہے تب طبیب حاذق اسی شدت مرض کے مطابق نسخہ تجویز کرتا ہے اور پھر جب مرض کے انحطاط کا وقت آتا ہے یعنی مرض گھٹنی شروع ہوتی ہے تو طبیب بھی اپنے نسخہ کو نرم کر لیتا ہے اور جب کسی مرض میں بغیر اپریشن یعنی جراحی کے چارہ نہیں ہوتا اور اندیشہ موت ہوتا ہے تو طبیب کا یہ فرض ہوتا ہے کہ فوراً اپریشن پر کمر بستہ ہو اور اس بات کا لحاظ نہ رکھے کہ بیمار کو کچھ تکلیف ہو گی ۔ بعض اوقات طبیب کو جان بچانے کے لئے مریض کا پیٹ چیرنا پڑتا ہے یا سر یا جبڑہ کی کوئی ہڈی نکالنی پڑتی ہے تو ان تمام تجاویز میں طبیب کو ظالم نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ ان تدابیر میں ہلاک کرنا نہیں چاہتا بلکہ جان کو بچانا چاہتا ہے۔ ایسا ہی اگر تم سوچ کر دیکھو تو ظاہر ہوگا کہ انسان کی زندگی ہر ایک پہلو سے تغیرات سے (۲۰۷) بھری ہوئی ہے اور جیسا کہ انسان جسمانی طور پر تختہ مشق تغیرات ہے ایسا ہی روحانی طور پر بھی اُس کو تغیرات سے چارہ نہیں۔ ہم اپنے ملک میں دیکھتے ہیں کہ اکتو بر مہینہ کے شروع ہوتے ہی ہمیں اپنے لباس میں کچھ کچھ تغیر کرنا پڑتا ہے اور پھر دسمبر کے مہینہ میں ہم پورے طور پر اس ہلکے لباس کو چھوڑ دیتے ہیں جو پہلے رکھتے تھے ۔ اور بجائے اُس کے پشم وغیرہ کے موٹے موٹے کپڑے پہنے شروع کرتے ہیں جو دفع سردی کے لئے کافی ہوں ۔ اور پھر جب اپریل کا مہینہ آتا ہے تو پھر ہم باریک کپڑے پہنے شروع کرتے ہیں۔ اور جون جولائی میں سیکھے اور ٹھنڈے پانیوں کی شدید حاجت ہوتی ہے۔ سو جاننا چاہیے کہ یہی تغیرات انسان کی روحانی زندگی میں بھی