چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 214

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۱۴ چشمه معرفت وہ سزا دینے میں دھیما ہے۔ پس اگر کسی ظلم اور خیانت کے وقت کوئی شخص اپنے کیفر کردار کونہ پہنچے تو اُس کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ خدا کو اس کی اس مجرمانہ حرکت کی خبر نہیں بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ باعث خدا کے حکم کے یہ تاخیر واقع ہوئی ہے اور آخر شر یہ آدم کو وہ سزا دیتا ہے جس کے وہ لائق ہوتا ہے۔ ہاں مشو مغرور بر حلم خدا دیر گیر دسخت گیر دمر ترا اب ان تمام آیات سے صاف ظاہر ہے کہ کیسے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدین کے حق کو تاکید کے ساتھ ظاہر فرمایا ہے اور ایسا ہی اولاد کے حقوق بلکہ تمام اقارب کے حقوق ذکر فرمائے ہیں اور مساکین اور یتیموں کو بھی فراموش نہیں کیا بلکہ ان حیوانات کا حق بھی انسانی مال میں ٹھہرایا ہے جو کسی انسان کے قبضہ میں ہوں۔ اس کے مقابل پر وید نے اہل حقوق کی بہت حق تلفی کی ہے یہاں تک کہ ایک ناجائز ولادت کا بچہ جو بذریعہ نیوگ پیدا کیا جاتا ہے وہ بھی وید کے رو سے کسی شخص کا ایسا ہی وارث ٹھہرتا ہے جیسا کہ اُس کا صلبی بچہ۔ یہ کس قدر بے انصافی ہے اور پھر کسی کی موت کے بعد اس کے بعض وارثوں کی وید کے حکم سے حق تلفی کی جاتی ہے اور اُن کو صاف جواب دیا جاتا ہے مگر قرآن شریف کی رو سے حصہ کشی کے وقت ایک ہی مجلس میں سب کے حقوق دیئے جاتے ہیں کوئی محروم نہیں رکھا جاتا۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی یہ نشانی پیش کی کہ اس میں ترمیم تنسیخ نہ ہو اور نہ ہونے کی ضرورت ہو ۔ اب ہم اس کے جواب میں کیا کہیں اور کیا لکھیں یہ شخص ناحق وید کی پردہ دری کراتا جاتا ہے۔ ابھی تک اس کو یہ بھی خبر نہیں کہ انسانی فطرت معرض تبدل اور تغیر میں پڑی ہوئی ہے پس خدا کی طرف سے وہی کتاب ٹھیر سکتی ہے جو ان تغییرات کا لحاظ ر کھے ۔ جو شخص طبیب کہلا کر ایک شیر خوار بچہ کو اسی قدر اور اسی درجہ کی دوا دیتا ہے جو ایک جوان کو دینے کے لائق ہے وہ ایک نادان آدمی ہے طبیب نہیں ہے اور جیسا کہ ایک طبیب کو موسموں کے لحاظ سے ایک دوا کی کمی بیشی کرنی پڑتی ہے یا ایک دوا ترک کر کے دوسری دوا اختیار