چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 212

۲۱۲ روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت مَّا تَرَكْتُمُ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثَّمُنُ مَا تَرَكْتُمْ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنِ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ تُوْرَثُ كَلَلَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَةٌ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذلِك فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍ وَصِيَّةٌ مِنَ اللهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ الجز نمبر ۳ سورة النساء ۔ ترجمہ۔ مردوں کے لئے اُس جائیداد میں سے ایک حصہ ہے جو ماں باپ اور قرابتی چھوڑ گئے ہوں ۔ ایسا ہی عورتوں کے لئے اس جائیداد میں سے ایک حصہ ہے جو ماں باپ اور قرابتی چھوڑ گئے ہوں۔ اس میں سے کسی کا حصہ تھوڑا ہو یا بہت ہو بہر حال ہر ایک کے لئے ایک حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ اور جب ترکہ کے تقسیم کے وقت ایسے قرابتی لوگ حاضر آویں جن کو حصہ نہیں پہنچتا۔ ایسا ہی اگر یتیم اور مسکین بھی تقسیم کے موقع پر آجا دیں تو کچھ کچھ اس مال میں سے اُن کو دے دو اور اُن سے معقول طور پر پیش آؤ یعنی نرمی اور خلق کے ساتھ پیش آؤ۔ اور سخت جواب نہ دو۔ اور وارثان حق دار کو ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ مرتے تو اُن کے حال پر اُن کو کیسا کچھ ترس نہ آتا اور کیسی وہ اُن (۲۰۲) کی کمزوری کی حالت کو دیکھ کر خوف سے بھر جاتے پس چاہیے کہ وہ کمزور بچوں کے ساتھ سختی کرنے میں اللہ سے ڈریں اور اُن کے ساتھ سیدھی طرح بات کریں یعنی کسی قسم کے ظلم اور حق تلفی کا ارادہ نہ کریں۔ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق خورد برد کرتے ہیں وہ مال نہیں کھاتے بلکہ آگ کھاتے ہیں۔ تمہاری اولاد کے حصوں کے بارے میں خدا کی یہ وصیت ہے کہ لڑکے کو دولڑکیوں کے برابر حصہ دیا کرو پھر اگر لڑکیاں دو یا دو سے بڑھ کر ہوں تو جو کچھ مرنے والے نے چھوڑا ہے اُس مال میں سے اُن کا حصہ تہائی ہے اور اگر لڑکی اکیلی ہو تو وہ مال متروکہ میں سے نصف کی مستحق ہے اور میت کے ماں باپ کو یعنی دونوں میں سے ہر ایک کو اس مال میں سے جو میت نے چھوڑا حمدیہ اس لئے ہے کہ لڑکی سسرال میں جا کر ایک حصہ لیتی ہے پس اس طرح سے ایک حصہ ماں باپ کے گھر سے پا کر اور ایک حصہ سرال سے پا کر اس کا حصہ لڑکے کے برابر ہو جاتا ہے۔ منہ ا النساء : ۱۳۳۸ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' دوتہائی “ ہونا چاہیے۔(ناشر)