چشمہٴ معرفت — Page 1
ٹائیٹل بار اول قد فرغنا منَ الرّد على قوم يسمون آية فالحمدُ لِلَّهِ انا اذا انزَلْنَا بِسَاحَة فِي سَاءَ صَبَاحُ المُنذَرينَ و اترجمه گار ہم آریون کا تو لکھنے سے فرات کر چکے تو اس مقصد کوسب تعریف ہو جو تم جانوں کا ہے ہم جب ایک قوم پر چڑھائی کرتے ہیں اور ان کے صحن میں اترتے ہیں تو وہ صبح انکی یانگ کی صبح ہوتی ہو جو تیا ہی کی خبر دیتی۔ یه کتاب آریا جنوں کے اس مضمون کے جواب میں ہر جسکو انہوں نے اپنی مذہبی جلسہ میں ممبر سا مین ہمواجہ چار سو مغز بیماری باستر مسلمانوں کے خود اسکو اپنی گھر میں ملا کر سنایا تھا جو ہمارے شید و موئے ی صلے اللہ علیہ سلم کی تو ہین اور دشنام دہی سے قبر بنتا جس میں دین اسلام پر جابجا تو این نسی اور ٹھٹھا کیا گیا تھا اور نہایت شوخی سے گندی گالیان دیگر اور بیجا نہین ہماری مقدس ذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگا کر صدہا مسلمانون کو خود مدعو کر کے نہایت کہہ دیا تہا اور اس کتاب کا نام ہے جوه ارسی مطبع انوار احد به مشتین به قادر این گورداسپورمین طبع چونی با تمام شیخ یعقوب علی تراب پنجر دو بیزار جلد قیمت فی جلد یک تاریخ اشاعت ۲۰ مئی شنواء اور قیمت مجلد تمین روی