چشمہٴ معرفت — Page 202
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۰۲ چشمه معرفت ان ایمانداروں کو نجات دے دی جو متقی اور پر ہیز گار تھے ۔ سو خدا کا مکر یہ تھا کہ جب شریر آدمی شرارت میں بڑھتے گئے تو ایک مدت تک خدا نے اپنے ارادہ عذاب کو مخفی رکھا ۔ اور جب اُن کی شرارت نہایت درجہ تک پہنچ گئی بلکہ انہوں نے ایک بڑا مکر کر کے خدا کے برگزیدوں کو قتل کرنا چاہا ۔ تب وہ پوشیدہ عذاب خدا نے اُن پر ڈال دیا جس کی اُن کو کچھ بھی خبر نہ تھی اور اُن کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ اس طرح ہم نیست و نابود کئے جائیں گے ۔ یہ اس ۱۹۴ بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کے برگزیدہ بندوں کو ستانا اچھا نہیں آخر خدا پکڑتا ہے کچھ مدت تک تو خدا اپنے ارادہ کو مخفی رکھتا ہے اور وہی اُس کا ایک مکر ہے مگر جب شریر آدمی اپنی شرارت کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے تب خدا اپنے ارادہ کو ظاہر کر دیتا ہے پس نہایت بد قسمت وہ لوگ ہوتے ہیں جو خدا کے برگزیدہ بندوں کے مقابل پر محض شرارت کے جوش سے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اُن کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں آخر خدا اُن کو ہی ہلاک کرتا ہے ۔ اس کے بارہ میں رومی صاحب کا یہ شعر نہایت عمدہ ہے ۔ تا دل مرد خدا نامد بدرد بیچ قومی را خدا رسوا نہ کرد پھر مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی یہ نشانی پیش کی کہ اُس میں کسی کا مال لوٹنے کے لئے لئے حکم نہ دیا گیا ہو ہم اس سے بھی یہی بات نکالتے ہیں کہ یا تو یہ شخص وید سے نا واقف ہے اور یا وید کے رشیوں کا پکا دشمن ہے کیونکہ بار بار وہی باتیں بیان کرتا ہے جو وید کی تعلیم کے مخالف ہیں۔ اس جگہ ہم بطور نمونہ ناظرین کے لئے رگوید کی چند شرتیاں لوٹ کے بارے میں لکھ دیتے ہیں اور وہ یہ ہیں : اگنی کے آگے ایک دعا کر کے آخری فقرہ شرقی کا یہ ہے ۔ ایسا ہو کہ ہم لڑائیوں میں اپنے دشمنوں سے لوٹ حاصل کریں اے اندر گو ہم مستحق نہ ہوں پر تو ہمیں ہزار ہا گوئیں اور گھوڑے دے کر مالا مال کر ۔ اے خوبصورت اور طاقتور اندر خوراک کے مالک تیری شفقت ہمیشہ قائم رہتی ہے ہزاروں عمدہ گھوڑے اور گوئیں ہمیں دے ہر ایک کو جو ہمیں گالی دیتا ہے غارت کر یعنی اُن کا مال گوئیں وغیرہ ہمیں دے دے۔