چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 185

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۸۵ چشمه معرفت بھی خیال و گمان نہیں ہوتا ایسا ہی بموجب عقیدہ آریوں کے جب روح آواگون کے طور پر واپس آتی ہے تو تمام علوم وفنون اور وید کی تعلیم اور گیان کو فراموش کر کے جنم لیتی ہے پس اگر فرض محال کے طور پر تناسخ سیج ہے تو اس سے ماننا پڑتا ہے کہ رُوحوں کی زندگی جھوٹ ہے کیونکہ اگر پر میشر کی طرح اُن میں ابدی زندگی ہوتی تو اُن پر یہ پتھر کیوں پڑتے کیا پر میشر بھی اپنے علوم کو بھول جایا کرتا ہے؟ پس جو حادثہ رُوحوں کو اُن کے وہ علوم فراموش کرا دیتا ہے جو تمام عمر میں انہوں نے حاصل کئے تھے اس حادثہ کا نام موت ہے ہی مگر آریہ کہتے ہیں کہ روحوں پر موت نہیں مگر ہم تعجب کرتے ہیں کہ کیا موت کے سر پر سینگ ہوتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ جب اُن پر اتنا غیر آتا ہے کہ تمام عمر کی کمائی اُن کی ایک دم میں کھو دیتا ہے تو کیا موت کا لفظ اب تک اُن پر صادق نہیں آتا۔ یہ سچائی کس قدر ثابت ہے کہ آفتاب کی طرح چمکتی ہے مگر پھر بھی وید دائمی زندگی میں رُوحوں کو پر میشر کے ساتھ برابر ٹھیرا اتا ہے۔ کیا یہ پرمیشر کی اعلیٰ درجہ کی صفت ہے کہ اُس کا زندگی میں غیر بھی شریک ہے؟ اگر چه اسلام بھی مخلوق کی نوعی قدامت کا قائل ہے مگر اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر ایک چیز مخلوق ہے اور ہر ایک چیز خدا کے سہارے سے قائم اور موجود ہے اور نیز اسلام اس بات کا قائل ہے کہ ایک وہ زمانہ تھا جو خدا کے ساتھ کوئی نہ تھا اور صرف وحدت اپنا جلوہ دکھلا رہی تھی اور خدا مل حاشیه انسانی روح نیند کی حالت میں اکثر دو حالتوں میں ہوتی ہے (۱) ایک تو اس پر ایسے بھاری تغیرات آتے ہیں کہ وہ بیداری کے علوم اور واقعات کو بالکل فراموش کر دیتی ہے اور نئے نظارے جو اس کے ارادہ اور اختیار سے باہر ہوتے ہیں اس کے سامنے آجاتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت وہ اپنی ارادی طاقتوں سے معطل ہو کر مردہ کی طرح ہو جاتی ہے (۲) دوسری بعض صورتوں میں ایسی سخت نیستی کی حالت اس پر وارد ہوتی ہے کہ اس کی ہستی کے صفات بکلی محو ہو جاتے ہیں مثلاً اگر کسی کو کلور ا فارم سے انتہائی درجہ تک بیہوش کیا جائے تو اس قدر روح پر اور اس کے آثار پر نیستی وارد ہوتی ہے کہ اگر ایسے بیہوش کا کوئی عضو بھی کاٹ دیا جائے تو اس کو کچھ بھی خبر نہیں ہوتی پس جب کہ ایسی تمام صورتوں میں اپنی تمام حالتوں میں اپنی صفات سے روح معطل ہو جاتی ہے اور قطعاً اپنی صفات کو چھوڑ دیتی ہے تو یہی صورت موت کی ہے۔ منہ