چشمہٴ معرفت — Page 177
روحانی خزائن جلد ۲۳ 122 چشمه معرفت تھی کہ خدا سے ڈرے اور راہ راست کو انصاف کے ساتھ دیکھے اور اُس کی شوخی حد سے بڑھ گئی تھی اور بجز ٹھٹھے اور جنسی اور گالی کے کوئی اس کا شیوہ نہ تھا آخر میں نے اُس کو مباہلہ کے لئے بلایا یعنی اس بات کے لئے کہ وہ بجائے خود اور میں بجائے خود دعا کروں کہ خدا جھوٹے کو ہلاک کرے اور اس طرح پر مجھ میں اور اس میں فیصلہ کر دے۔ پس بد دعا کے وقت مجھ کو خدا نے اس کی نسبت بشارت دے دی کہ وہ چھ برس کے اندر قتل کے ذریعہ سے جواناں مرگ مرے گا اور عید کے بعد جو دن آتا ہے اس میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی ۔ ایسا ہی لیکھر ام نے میرے مقابل پر اپنا مباہلہ چھپوا دیا یعنی یہ دعا کہ بچے کے حق میں خدا فیصلہ کرے اور جھوٹے پر اپنا قہر نازل کرے یہ دعا اُس نے اپنی کتاب میں ابو جہل کی طرح بڑے درد دل سے لکھی ہے اور خدا سے فیصلہ چاہا ہے پس خدا نے اُس (119 کے قتل کئے جانے سے یہ فیصلہ کر دیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب میں جھوٹا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت پوتر اور پاک اور صادق ہیں اور نیز یہ کہ موجودہ ویدوں کی تعلیم صحیح نہیں ہے پھر نہ معلوم کہ اس خدائی فیصلہ کے بعد مضمون پڑھنے والے نے دوبارہ اعتراض کیوں پیش کر دیا کیا اس کو خدائی فیصلہ سے تسلی نہ ہوئی اور اگر چہ ہم لیکھرام کا یہ مباہلہ اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں درج کر چکے ہیں مگر پھر بھی آریہ صاحبوں کی خاطر سے اس جگہ بھی درج کر دیتے ہیں اور ہم اُن کو متنبہ کرتے ہیں کہ پوتر اور پاک کی یہ نشانی ہے جو خدا کی گواہی سے اُس کا پاک ہونا ثابت ہو نہ صرف دعویٰ جیسا کہ وید کے رشیوں کے بارے میں کیا جاتا ہے ۔ بھلا بتلاؤ کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے؟ کہ وید کے رشی پوتر تھے ۔ کون سی خدا نے گواہی اُن کے پوتر ہونے کے بارے میں دی ہے۔ اُن کی گندی تعلیمیں نیوگ وغیرہ صاف بتلا رہی ہیں کہ انہوں نے پاک راہ کی طرف ہدایت نہیں کی پھر وہ آپ کیوں کر پاک اور پوتر ٹھہر سکتے ہیں۔ اب ہم ذیل میں لیکھرام کا مباہلہ درج کرتے ہیں۔ مضمون مباہلہ میں نیاز التیام لیکھر ام ولد پنڈت تارا سنگھ صاحب شر ما مصنف تکذیب برا مین احمد یہ درساله طذا