چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 176

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۷۶ چشمه معرفت نہیں ہوگا وہ اُن کے لئے بڑے بڑے کام دکھاتا ہے اور اُن کی عزت کو تمام دنیا میں شہرت دیتا ہے نادان دشمن چاہتا ہے کہ وہ معدوم ہو جائیں اُن کا نام ونشان نہ رہے وہ ذلیل اور بدنام ہو جائیں اور اُن کی زندگی ناپاک اور ملوث ثابت ہو اور ہزاروں تہمتوں کا انبارلوگوں کے سامنے رکھ دیتا ہے مگر وہ جو اُن کے دل کو دیکھتا ہے اور اُن کے پاک تعلق پر اطلاع رکھتا ہے وہ اس شریر دشمن کے مقابل پر آپ کھڑا ہو جاتا ہے اور اُس کی غیرت اپنے اُس پیارے کے لئے جوش مارتی ہے جب وہ لاکھوں تہمتوں کو ایک ہی کرشمہ قدرت سے کا لعدم کر دیتا ہے۔ اور اگر کہو کہ ابو جہل کے مارے جانے کا معاملہ دور دراز کا معاملہ ہے جس پر تیرہ سو برس (۱۲۸) گذر گئے ہم کیونکر یقینی طور پر مجھ لیں کہ ابو جہل نے در حقیقت ایسی بد دعا مباہلہ کے رنگ میں کی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ اُسی دن وہ خود ہی قتل کیا گیا تھا شاید یہ قصہ ہی غلط ہو جو مسلمانوں نے آپ بنالیا ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ در حقیقت یہ قصہ صحیح ہے اور بہت پرانی کتابوں میں اس کا تذکرہ ہے اور کسی مخالف نے اس سے انکار نہیں کیا اور بہت سے طریقوں سے یہ قصہ ثابت ہے یہاں تک کہ لسان العرب میں بھی جو اسلام کی ایک پرانے زمانہ کی لغت کی کتاب ہے اس میں بھی یہ قصہ لکھا ہے پھر ایسی متواترات سے کیونکر انکار ہوسکتا ہے؟۔ اور اگر کسی نادان دشمن کی اب بھی تسلی نہ ہو تو ہم ایک تازہ ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پوتر اور پاک ہونے کا لکھتے ہیں جس پر لیکھر ام آریہ نے اپنے مارے جانے سے مہر لگادی ہے۔ واضح ہو کہ مضمون پڑھنے والے نے جس قدر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کئے ہیں وہ صرف آنکھیں بند کر کے لیکھرام کی کتابوں میں سے لکھے ہیں اور یہ لیکھرام کا ہی دعویٰ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پوتر اور پاک نہیں تھی اور اُس کے نزدیک ویدوں کے رشیوں کی زندگی پاک تھی۔ اسی نفسانی خیال کی وجہ سے وہ قادیان میں آیا میں نے اُس کو بہت سمجھایا کہ خدا کے پاک نبی پر حملہ کرنا اچھا نہیں مگر وہ خدا کی عظمت اور قدرت کا منکر تھا اس کو اس بات کی کچھ بھی پروا نہیں