چشمہٴ معرفت — Page 155
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۵۵ چشمه معرفت کچھ لکھنا نہیں چاہتے لیکن پھر کسی آریہ کی تحریک سے ہم انشاء اللہ اس بارے میں ایک مفصل مضمون تحریر کریں گے۔ مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی لکھی ہے کہ اس میں کوئی قصہ درج نہ ہو مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کے ہوش و حواس قائم نہیں ہیں جو کچھ بیان کرتا ہے وہ صرف دعوی ہی ہوتا ہے ورنہ صاف ظاہر ہے کہ خدا جو عالم الغیب اور رحیم اور سر چشمہ تمام علوم ہے اس کی مربیانہ عادات میں یہ بھی داخل ہے کہ متاخرین کو متقدمین کے اخلاق اور حالات سے اطلاع دیتا ہے اور یہ جتلاتا ہے کہ پہلے اس سے ایسے ایسے صادق و فادار مومن گذر چکے ہیں جنہوں نے شدائد اور مصائب پر صبر کیا اور بڑے بڑے امتحانوں میں پڑکر پورے نکلے اور انہوں نے خدا کی راہ میں آگے سے آگے قدم رکھا اور خدا نے اُن کی وفاداری کو دیکھ کر ان پر بڑے بڑے فضل کئے اور ہر ایک امر میں ان کو کامیابی بخشی اور اپنے برگزیدہ بندوں میں ان کو داخل کیا اور ان کے مقابل پر ایک اور لوگ بھی گذرے ہیں جو خدا سے برگشتہ رہے اور دلیری سے ہر ایک قسم کے گناہ کئے اور خدا کے بندوں کو دکھ دیئے اور آخر وہ پکڑے گئے اور عذاب شدید میں مبتلا ہوئے ۔ اور ایسے قصوں کے لکھنے سے خدا تعالیٰ کا یہ مقصود ہوتا ہے کہ تا لوگ اس راہ سے بھی متنبہ ہوں اور بدی کو چھوڑیں اور نیک نمونہ اختیار کریں۔ اب کوئی عظمند سوچے کہ ایسے قصے بیان کرنے کیوں حرام ہو گئے جن میں انسانوں کے لئے ایک صریح فائدہ متصور ہے۔ انسان کی فطرت میں یہ داخل ہے کہ اچھے اور نیک آدمیوں کے قصے سن کر جنہوں نے خدا کی راہ میں بڑی بڑی وفاداری دکھلائی اور اس وفاداری کے بڑے بڑے اجر پائے ان کاموں کے کرنے کے لئے اس کے دل میں رغبت پیدا ہوتی ہے اور ایسے آدمیوں کے قصے سن کر جو اپنی شامت اعمال حاشیه با دانا تک صاحب جو ایک بزرگ آدمی تھے وید کی نسبت ان الفاظ سے لکھتے ہیں کہ چاروں دید کہانی یعنی چاروں وید محض کہانیاں ہیں ان میں کوئی حقیقت اور مغز نہیں ۔ منہ