چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 154

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۵۴ چشمه معرفت اور نیز ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کی خبر دی تھی ۔ ایسا ہی اور صد ہا الہامی پیشگوئیاں ہیں جو ظہور میں آئیں اور پوری ہوئیں پھر ہم اپنی چشم دید باتوں سے کیوں کر انکار کر سکتے ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہر ایک زبان میں الہام کرتا ہے جیسا کہ وہ ہر ایک زبان میں لوگوں کی آواز سنتا ہے۔ مخلوق کی زبانیں دراصل خدا کی ہی زبان ہے۔ ہر ایک قوم اپنی اپنی زبان میں اس کی درگاہ میں دعائیں کرتی ہے۔ و یدک سنسکرت کی نسبت اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک مردہ زبان ہے چونکہ اب وہ بولی نہیں جاتی تو نادان لوگوں نے سمجھ لیا کہ گویا وہ پر میشر کی زبان ہے ورنہ ہر ایک عقل سلیم سمجھے سکتی ہے کہ چونکہ خدا سرب شکتی مان ہے اور قادر مطلق اور عالم الغیب ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہر ایک زبان کا اس کو علم ہو اور ہر ایک زبان کے بولنے پر وہ قادر ہو اور اگر وہ ہر ایک زبان کے بولنے پر قادر تو ہے مگر اس کو بولنا اپنی شان کے بر خلاف سمجھتا ہے تو ان زبانوں میں لوگوں کی دعائیں کیوں سنتا ہے کیا اس میں اس کی کسر شان نہیں ؟ اس میں بھی یہ شرط لگا دینی چاہیے کہ دعا تب سنی جائے گی کہ جب اُسی زبان میں جو پر میشر کی زبان ہے لوگ دعا کریں اور بغیر اس کے ہرگز ہرگز پر میشر کسی کی دعا کو نہیں سنے گا۔ تعجب کہ ان لوگوں کی عقل کیسی ماری گئی ہے کہ پر میشر کے لئے ایک خاص زبان ٹھیراتے ہیں گویا جیسا کہ ہر ایک قوم کی الگ زبان ہے ایساہی پر میشر کی بھی ایک الگ زبان ہے حالانکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ انسانوں کا پیدا کرنے والا ہے ایسا ہی ان کی زبانوں کا بھی وہی پیدا کرنے والا ہے اور نہیں کہہ سکتے کہ وہ ان کی زبانوں سے بے خبر ہے یا اُن میں بولنے پر قادر نہیں اور کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ پر میشر کو دوسری زبانوں میں الہام کرنے سے کیوں نفرت اور بیزاری ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ وہ دوسری زبانوں میں دعا کوسن تو لیتا ہے مگر بول نہیں سکتا۔ علاوہ اس کے ہم نے ایک بڑی عمیق تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ جس قدر دنیا میں ۱۳۷) زبانیں ہیں ان سب کی ماں عربی ہے اور اس وقت ہم طول کے اندیشہ کی وجہ سے اس بارے میں