چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 151

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۵۱ چشمه معرفت سراسر خلاف قانون قدرت ہے اور چونکہ ہم اس رسالہ میں اس امر کا خلاف قانون قدرت ہونا دلائل مشہودہ ومحسوسہ سے ثابت کر چکے ہیں لہذا اب اس کے لکھنے کی اس جگہ ضرورت نہیں۔ تیسری نشانی جو مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کے لئے بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ اس کی تعلیم عالمگیر ہولیکن ظاہر ہے کہ وید کی تعلیم ہرگز عالمگیر نہیں بلکہ عالمگیر ہونا تو الگ انسانی فطرت بھی اس کو قبول نہیں کر سکتی کیا دنیا میں کوئی غیرت مند انسان قبول کر سکتا ہے کہ اس کی منکوحہ عورت با وجود قائم ہونے نکاح کے دوسرے سے منہ کالا کراوے انسانی غیرت نے ایسے ناجائز کاموں کے وقت دنیا میں خون کی ندیاں بہادی ہیں۔ پس ایسی بے حیائی کی تعلیم عالمگیر کیونکر ہوسکتی ہے؟ مضمون پڑھنے والے کو اگر یہ دعوئی ہو کہ یہ تعلیم عالمگیر بن سکتی ہے تو پہلے اس آریہ ورت میں ہی اس تعلیم کو جاری کر کے دکھلاوے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ قطعی اور یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ نیوگ کی تعلیم در حقیقت اُن سنیاسیوں کی خود ایجاد ہے کہ جو دراصل اُن کا نفس شہوات سے ایسا بھرا ہوا تھا جیسا کہ ایک بڑا پھوڑا پیپ سے بھرا ہوتا ہے اور دوسری طرف اُن کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ بغیر عورت کے بسر کر سکتے تھے آخر نفس اُن کا قابو سے نکل گیا۔ سو ابتدا میں ایسے ہی سنیاسیوں نے نیوگ کے مسئلہ کو ایجاد کیا ہے اور اُس کے ذریعہ سے اپنی نفسانی خواہشیں پوری کی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ وہ ہدایت وید میں بھی درج کی گئی اور عام طور پر آریہ ورت میں اس پر عمل ہونے لگا سوخدا نہ کرے کہ وید کی یہ تعلیم عالمگیر ہو اور جس وقت یہ نا پاک تعلیم عالمگیر ہو جائے گی سو اُس وقت قیامت آجائے گی ۔ اور یہ بھی ہم نے سنا ہے کہ ویدوں کے جغرافیہ میں یہ لکھا ہے کہ کوہ ہمالہ کے پرے کوئی آبادی نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ویدوں میں عالم سے مراد یہی آریہ ورت مراد ہے پس اگر یہ صیح نہیں ہے تو اول آریوں پر فرض ہے کہ ویدوں کی شرتیوں کے موافق عالم کی فہرست پیش کریں ۔ میں تو ۱۴۴